.

تکریت میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر عراقی بمباری

شہر کو داعش سے واگذار کرانے کے لیے آپریشن کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فضائیہ نے شمالی شہر تکریت کے متعدد مقامات پر دولت اسلامیہ ’داعش‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں شدت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

'العربیہ' ٹی وی ذرائع کے مطابق عراقی لڑاکا طیاروں نے تکریت کے شمالی اور مغربی علاقوں بالخصوص الطین کالونی اور البوعبید کے مقامات پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ایک عراقی سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ تکریت کے قریب سٹیشن فورسز نے پیش قدمی کرتے ہوئے الطین کالونی پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ کالونی داعش کے زیر قبضہ جامعہ تکریت کے قریب واقع ہے۔ الطین پر قبضے کے بعد جامعہ التکریت پر بھی عراقی فوج کے کنٹرول کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فوج کے ایک دوسرے دستے نے کارروائی کر کے البوعبید کے مقام سے بھی دہشت گردوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ البوعبید کے مقام پر کنٹرول کے حصول کے لیے فضائی اور زمینی کارروائی ایک ساتھ کی گئی اور دہشت گردوں کے مراکز پر بھاری توپخانے سے گولہ باری کی گئی ہے۔

قبل ازیں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے سامراء شہر کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فوج جلد ہی تکریت کی اہم گورنری صلاح الدین میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز تین اطراف سے صلاح الدین گورنری کی جانب پیش قدمی کریں گے اور انہیں اتحادی فوج کے جنگی طیاروں کی معاونت بھی حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کی صورت میں صلاح الدین گورنری سے بڑی تعداد میں شہریوں کے انخلاء کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ادھر صلاح الدین گورنری کے سنی قبائل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بھی تکریت کی طرف پیش قدمی کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ یہ قبائلی نوجوان عراقی فوج کی کمان میں دولت اسلامیہ کے جنگجوئوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیں گے۔

دفاع ماہرین کا کہنا ہے کہ تکریت میں داعش کے خلاف عراقی فوج کا آپریشن کسی خطرے سے خالی نہیں لیکن اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے عراق کے تمام سیکیورٹی اداروں کو اپنی قوت کو مجتمع کرنا ہو گا۔ ماہرین کے خیال میں تکریت کی طرف مزید پیش قدمی کے لیے عراقی فوج نے جو پلان ترتیب دیا ہے اس کے مطابق شہر پر تین اطراف سے زمینی اور فضائی حملے ایک ساتھ شروع کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں جنوبی تکریت سے العجوجہ، شمال سے سبائکر فوجی اڈہ اور جامعہ التکریت اور جنوب مشرق کی سمت میں سوشناس کے مقامات سے پیش قدمی کا امکان ہے۔ تاہم سوشناس سب سے مشکل راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیر اعظم کی سامراء آمد

درایں اثناء عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی اتوار کو اچانک شمالی شہر سامراء پہنچے جہاں انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کا معائنہ کیا اور اگلے مورچوں پرموجود سیکیورٹی اہلکاروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکیورٹی فورسز کی مقامی قیادت کے علاوہ قبائلی جنگجوئوں کے رہ نما بھی موجود تھے۔

حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم العبادی کے دورہ سامراء کا مقصد تکریت اور صلاح الدین گورنری میں دولت اسلامی کے خلاف مجوزہ آپریشن کا جائزہ لینا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ آپریشن کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش کریں صرف دہشت گردوں کے خلاف مسلح کارروائی جاری رکھیں۔

خیال رہے کہ داعش نے جنوری 2014ء کو عراق کےشمالی شہر تکریت پر قبضہ کرتے ہوئے اس کے مضافات میں کئی دیہات کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ شمالی شہر موصل پرقبضے کےبعد تکریت پر داعش کا قبضہ بغداد کی طرف پیش قدمی کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا تاہم اتحادی فوج کی جانب سے فضائی آپریشن شروع کیے جانے کے بعد داعش کی بغداد کی طرف پیش قدمی رک گئی تھی۔