.

قاہرہ:عدالتِ عظمیٰ کے باہر بم دھماکا ،ایک ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عدالتِ عظمیٰ کے باہر بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر کے سرکاری خبررساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) نے وزارت داخلہ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ بم دھماکے میں مرنے والا شخص عام شہری ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ حملہ آوروں نے آیا شہر کے مصروف علاقے میں واقع پولیس کے ایک چیک پوائنٹ یا میٹرو اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ اس نے دھماکے کے بعد شاہراہ پر تین افراد کو خون میں لت پت حالت میں دیکھا ہے۔پولیس نے واقعے کے فوری بعد علاقے کا محاصرہ کر لیا اور جاسوس کتوں کی مدد سے اس کی مکمل چھان بین کی ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں انتہا پسند مسلح جنگجو سکیورٹی فورسز کو گذشتہ ڈیڑھ ایک سال سے اپنے بم حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں اور انھوں نے اتوار کو ملک کے جنوبی علاقے میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر بم دھماکا کیا تھا جس کے نتیجے میں دو شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں اجناد مصر نامی ایک جنگجو گروپ مصری دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔ قاہرہ میں سپریم کورٹ کے نزدیک یہ دوسرا دھماکا ہے۔اس سے پہلے اکتوبر 2012ء میں بم دھماکا ہوا تھا اوراس میں بارہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

قاہرہ کے مختلف علاقوں میں گذشتہ جمعرات کو پے درپے پانچ بم دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔حملہ آوروں نے ایک پولیس اسٹیشن اور دو سیل فون کمپنیوں برطانیہ کی ملکیتی ووڈا فون اور متحدہ عرب امارات کی ملکیتی اتصالات کے دفاتر کو ان بم حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

صوبہ سیناء کے نام سے گروپ کے جنگجو جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور اب صدر عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے ملک کے بڑے شہروں اور خاص طور پر جزیرہ نما سیناء میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بم حملے کررہے ہیں۔اس گروپ نے خود کو دولت اسلامی عراق وشام کے ساتھ وابستہ کررکھا ہے۔

قاہرہ اور دوسرے شہروں میں انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران چھوٹے پیمانے پر متعدد دھماکے کیے ہیں لیکن ان میں کوئی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ البتہ 29 جنوری کو اس جنگجو گروپ نے شمالی سیناء کے مختلف شہروں میں پے درپے بم حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں تیس سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ایک دن میں مصری سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔