.

کانگریس ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے میں ’آخری رکاوٹ‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے متنازع جوہری پروگرام کےحوالے سے تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس بھی مزاحم ہے مگر کانگریس کی اہمیت اسرائیل سے بھی زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔

اس بات کا اظہار حال ہی میں اسرائیل کے ایک سرکردہ عہدیدار نے یہ کہہ کرکیا کہ ’’کانگریس ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی راہ میں آخری رکاوٹ ہے بن سکتی ہے‘‘۔

کسی اسرائیلی عہدیدار کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اسی ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ نیتن یاہو کانگریس سے خطاب کے لیے امریکا پہنچ چکے ہیں۔ انہی کے طیارے میں سوار ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیتن یاھو کل منگل کو کانگریس کے اجلاس سے خطاب کے دوران تفصیل سے بتائیں گے کہ آیا انہیں ایران سے جوہری معاہدے پرکیوں کراعتراضات ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ’’میری رائے میں ایران کو جوہری سمجھوتے تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کانگریس آخری رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر چوبیس مارچ کو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کوئی سمجھوتا طے پانے جا رہا ہے تو کانگریس اس میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کے ارکان کی اکثریت ایران سے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اور اس کے مضمرات سے لاعلم ہے۔ چونکہ ہمیں اس کے خطرات کا اندازہ ہے اس لیے ہم اسے ایک ’غیر مناسب‘ سمجھوتہ قرار دیں گے۔

اسرائیلی عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی صدر براک اوباما کی سفارتکاری ہمارے دیرینہ دشمن کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں مارچ کے آخری ہفتے کی نئی ڈیڈ لائن تہران اور گروپ چھ کے درمیان سمجھوتے کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ خدشہ ہے کہ صدر اوباما، ایران کو بعض شرائط کے تحت جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دے دیں۔

صہیونی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے کا کلی طور پر مخالف نہیں۔ ہم ایک مناسب معاہدہ کرانا چاہتے ہیں جس میں ایران جوہری صلاحیت کے حصول سے دستبردار ہونے پر راضی ہو جائے۔