.

شام میں ہلاک7 افغان جنگجوؤں کا ایران میں سوگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں مارے گئے سات افغانوں کے لیے ایران میں دعائیہ تقریب منعقد کی گئی ہے۔

ایران کے ایک سرکاری روزنامے کی رپورٹ کے مطابق ان مہلوکین میں افغان رضاکاروں پر مشتمل فاطمیون بریگیڈ کا کمانڈر علی رضا توّسلی بھی شامل ہے۔وہ شام کے جنوبی صوبے درعا میں 28 فروری کو القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ کے ساتھ ایک خونریز جھڑپ میں مارا گیا تھا۔شام میں مارے گئے ان افغانوں کے لیے ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے گذشتہ سال مئی میں ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ ایران شام میں لڑائی کے لیے افغان مہاجرین کو پانچ سو ڈالرز ماہانہ اور اقامتی اجازت نامے کے بدلے میں بھرتی کرکے بھیج رہا ہے۔ایرانی وزرت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے تب اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور اس کو افغان عوام کی توہین قرار دیا تھا۔

شام اور عراق میں افغان ہی نہیں بلکہ خود ایران کے سرکاری فوجی بھی باغی گروپوں اور دولت اسلامی (داعش) کے خلاف لڑرہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے آئے دن ان کی میدان جنگ میں ہلاکتوں کی اطلاعات منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔

تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام رضاکار ہیں جو ان دونوں ممالک میں اہل تشیع کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے گئے ہیں۔ایرانی حکومت عراق اور شام میں فوجی مشیروں کی تھوڑی تعداد کی موجودگی کو تسلیم کرتی ہے لیکن وہ برسرزمین اپنے دستوں کی موجودگی سے انکاری ہے۔

واضح رہے کہ شام کے گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع سرحدی علاقے القنیطرہ میں 18 جنوری کو پاسداران انقلاب ایران کے جنرل محمد علی اللہ دادی حزب اللہ کے چھے جنگجوؤں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔اسرائیلی طیارے نے ان کی گاڑی پر میزائل داغا تھا۔اس سے پہلے دسمبر میں عراق کے مغربی شہر سامراء میں پاسداران انقلاب کے بریگیڈئیر جنرل حمید تقوی داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔وہ وہاں عراقی فوج کی مشاورت کے لیے موجود تھے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران شامی حکومت کو باغیوں کی سرکوبی کے لیے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی مہیا کررہا ہے لیکن شامی فوج ایران کی افرادی قوت اور اسلحے کی امداد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی معاونت کے باوجود باغیوں کے خلاف جاری لڑائی میں کسی نمایاں پیش قدمی میں ناکام رہی ہے۔

ایرانی اور شامی حزب اختلاف کے ذرائع اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق تہران نے سیکڑوں فوجی ماہرین کو شام میں بھِیج رکھا ہے۔ان میں پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سینیر کمانڈرز اور اندرونی اور بیرونی خفیہ سروسز کے اہلکار شامل ہیں۔ایران کے ایک سابق عہدے دار کے بہ قول ایرانی فورسز شام میں فعال ہیں۔القدس فورس شام میں انٹیلی جنس معلومات جمع کررہی ہے اور اس کو ایران اپنی ترجیح قراردیتا ہے،القدس فورس اور پاسداران انقلاب کے چند سو کمانڈرز شام میں موجود ہیں لیکن وہ براہ راست لڑائی میں شریک نہیں ہیں۔

پاسداران انقلاب کے ایک ریٹائرڈ سینیر کمانڈر کا کہنا ہے کہ شام میں ایران کے عربی بولنے والے بعض کمانڈرز بھی موجود ہیں اور ان کی ہمیشہ ساٹھ سے ستر تک تعداد برقرار رہی ہے۔یہ لوگ بشارالاسد کی فوج کو مشاورت مہیا کررہے ہیں اور باغیوں کے خلاف لڑائی میں شیعہ ملیشیاؤں کو تربیت دینے کا کام کرتے رہے ہیں۔