.

مصر:عدالت کا پارلیمانی انتخابات ملتوی کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک انتظامی عدالت نے مارچ اور اپریل میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے اور الیکشن کمیٹی کو انتخابات کی تیاریوں سے متعلق اقدامات سے روک دیا ہے۔

ایک عدالتی ذریعے نے فیصلے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''انتظامی عدالت نے اعلیٰ انتخابی کمیٹی کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اقدامات کو روکنے کا حکم دیا ہے اور اس نے یہ حکم دستوری عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دیا ہے''۔

سپریم دستوری عدالت نے گذشتہ اتوار کو اپنے ایک فیصلے میں حلقہ ہائے نیابت کی تقسیم سے متعلق انتخابی قانون کے ایک حصے کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ عدالت نے کتنی مدت کے لیے انتخابات کو ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔

مصر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلے سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے پولنگ کا آغاز 22 مارچ کو ہونا تھا۔

واضح رہے صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے وضع کردہ نئے انتخابی قانون کے تحت مصر کو 237 انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان پر امیدوار انفرادی حیثیت میں انتخاب لڑسکیں گے۔چار نشستیں سیاسی جماعتوں کے لیے مختص کی گئی ہیں اور ان کی فراہم کردہ فہرست میں سے امیدواروں کا حاصل کردہ ووٹوں کی شرح کے تناسب سے انتخاب کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عبدالفتاح السیسی نے آرمی چیف کی حیثیت میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت 3 جولائی 2013ء کو برطرف کردی تھی اور اس کے بعد جمہوریت کی مکمل بحالی ،نئے آئین کی تدوین اور منظوری،صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک سیاسی نقشہ راہ کا اعلان کیا تھا۔

اس کے تحت پہلے مصر کا نیا آئین وضع کیا گیا تھا اور اس کو جنوری 2014ء میں عوامی ریفرینڈم میں منظور کرایا گیا تھا۔اس کے بعد مئی 2014ء میں صدارتی انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔ان میں عبدالفتاح السیسی ہی فوجی وردی اتارنے کے بعد بھاری اکثریت سے ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی سنہ 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کے بعد اُسی سال منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں اخوان المسلمون نے عوامی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن اس اسمبلی کو ایک عدالتی حکم کے تحت جون سنہ 2012ء میں تحلیل کردیا گیا تھا اور اس وقت ملک میں کسی پارلیمان کا وجود نہیں ہے۔