.

عسکری کمانڈر کی ہلاکت،النصرۃ محاذ مشکلات سے دوچار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ کے مرکزی کمانڈر کی اسدی فوج کے فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد اس جنگجو گروپ کے مستقبل کے حوالے سے سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ بیک وقت بشارالاسد کی وفادار فورسز اور داعش کے لیے سخت جان ثابت ہونے والے اس تنظیم کے جنگجو تتر بتر ہوسکتے ہیں۔

النصرۃ محاذ کے کمانڈر ابو ہمام الشامی جمعرات کوشام کے صوبے ادلب میں اپنے کمانڈروں کے ساتھ اجلاس کے دوران بمباری میں مارے گئے ہیں۔وہ انتہائی تجربے کار جہادی کمانڈر تھے اور انھوں نے 11 ستمبر 2001ء کو امریکا پر حملوں کے منصوبہ ساز القاعدہ کے جنگجوؤں کے ساتھ افغانستان میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔

ابو ہمام کی موت کے بعد النصرۃ محاذ کے مستقبل کی سمت غیریقینی صورت حال سائے منڈلا رہے ہیں۔اس تنظیم نے حالیہ مہینوں کے دوران شام کے شمال مغربی علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔اس نے میدان جنگ میں اپنا لواہا منوایا ہے اور ان علاقوں سے مغرب کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کو نکال باہر کیا ہے۔

شامی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کو النصرۃ محاذ کی قیادت پر حملہ کیا تھا اور اس میں اس گروپ کے دوسرے متعدد لیڈر بھی مارے گئے ہیں۔شامی فوج کے ایک ذریعے کے مطابق النصرۃ محاذ کے ہیڈ کوارٹرز پر فضائی حملہ کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جہادی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیاروں نے یہ فضائی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دھماکا ہوا تھا لیکن اس اتحاد نے اس صوبے میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیارے شام میں داعش کے علاوہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کو بھی نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

میدان جنگ میں موجود دوسرے گروپ بھی کمانڈر ہمام کی ہلاکت سے مرتب ہونے والے اثرات کے جائزے کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ النصرۃ محاذ مقتول کمانڈر کی جگہ بہت جلد اپنے نئے کمانڈر کا انتخاب کر لے گا۔

شمالی شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف نبردآزما ایک بڑے باغی گروپ کے لیڈر کا کہنا ہے کہ ابو ہمام کی ہلاکت بڑی اہمیت کی حامل ہے لیکن اس گروپ میں اتنی صلاحیت ہے کہ جب کبھی اس کا کوئی ایک کمانڈر مارا جاتا ہے تو وہ اس کی جگہ اپنے نئے کمانڈر کا فوراً انتخاب کر لیتا ہے۔اب بھی کوئی خلیج پیدا نہیں ہوگی۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ابو ہمام تنظیم کے مرکزی لیڈر ابو محمد الجولانی سے بھی زیادہ طاقتور اور اہمیت کے حامل تھے۔ان کی موت کے اثرات کا اندازہ لگانے میں ابھی وقت لگے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 27 فروری کے بعد ادلب میں فضائی حملوں میں النصرۃ محاذ کے سات مرکزی لیڈر مارے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے النصرۃ محاذ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں لیکن یہ تنظیم امریکا اور اس کے عرب اتحادیوں کے حمایت یافتہ گروپوں کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز اور داعش کے خلاف جنگ میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔اس گروپ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اب القاعدہ سے اپنا ناتا توڑنے پر بھی غور کررہے ہیں تاکہ انھیں شامی صدر کے مخالف خلیجی عرب ممالک کی زیادہ حمایت حاصل ہوسکے۔

شمالی شہر حلب میں النصرۃ محاذ کے جنگجو اسدی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیا کے خلاف لڑائی میں داد شجاعت دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انھوں نے انٹیلی جنس ادارے کی عمارت پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔یہ شام کے جنوبی علاقوں میں بھی لڑرہی ہے۔

النصرۃ محاذ نے گذشتہ سال تیئس منٹ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ابو ہمام کی جہادی سرگرمیوں کی عکاسی کی گئی تھی۔اس میں انھوں نے آن کیمرا داعش کی کَہ مکرنیوں کا بھانڈا پھوڑا تھا اور اس پر ایک تحریری معاہدے سے منحرف ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ داعش نے ان کے ساتھ جنگ بندی کا تحریر سمجھوتا کیا تھا لیکن پھر اس کے جنگجو اس سے منحرف ہوگئے اور انھوں نے انخلاء سے قبل ہی شہری علاقوں میں ایک عمارت کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔

النصرہ محاذ کی جانب سے جاری کردہ تفصیل کے مطابق ابو ہمام افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں واقع القاعدہ کے تربیتی کیمپ میں ٹرینر رہے تھے۔بعد میں انھوں نے عراق میں داعش کی پیش رو تنظیم دولت اسلامی عراق کے رہ نما ابو مصعب الزرقاوی کو بھی عسکری تربیت دی تھی۔