.

داعش نے تکریت کے آس پاس بارودی سرنگوں کا جال بچھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہروں تکریت اور الانبار سمیت متعدد مقامات پر عراقی فوج کا دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی اور زمینی آپریشن جاری ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے جاری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عراقی فوج اور اس کی حامی شیعہ ملیشیا نے الانبار میں داعش کے گڑھ البغدادی شہر سے عسکریت پسندوں کو باہر دھکیل دیا ہے۔ دوسری جانب تکریت میں عراقی فوج کا زمینی حملہ روکنے لیے شدت پسندوں نے شہر کے اطراف میں بارودی سرنگوں کا جال بچھا دیا ہے۔

عراق کے سیکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ داعش نے اپنی قوت تکریت کے شمالی علاقوں بالخصوص کرکوک سے متصل الحویجہ کے مقام میں منتقل کرنا شروع کردی ہے تاکہ شہر کے دیگرعلاقوں سے عراقی فوج اور اس کے حامی قبائل کے حملے کو روکنے کے لیے بھرپور دفاعی کارروائی کی جاسکے۔

عراقی قبائل کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایک قبائلی کمانڈر الشیخ وصفی العاصی کی کمان میں عراقی فوج اور ملیشیا کا مشترکہ آپریشن فاتحانہ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ دہشت گردوں کو کرکوک سے متصل الحویجہ اور دیگر علاقوں میں محصور کردیا گیا ہے۔ بھرپور زمینی اور فضائی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کی سپلائی لائن منقطع کردی گئی ہیں۔

عراقی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت صلاح الدین گورنری اور تکریت کے شمالی علاقوں، کرکوک اور الحویجہ میں ایک سو کلو میٹرکے علاقے پر گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ عسکریت پسند گروپ نے اپنے جنگجو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں مختلف پوسٹوں پر تعینات کردیے ہیں۔ فوج کی بھرپور کارروائی کے بعد شدت پسندوں کو نہ صرف پسپائی کا سامنا ہے بلکہ وہ فرار کے راستے بھی تلاش کررہے ہیں۔ عراقی فوج کا زمینی حملہ روکنے کے لیے داعش نے تکریت اس اس کے آس پاس کے علاقوں میں بارودی سرنگوں کا ایک جال بچھا دیا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران عراقی فوج نے سخت ترین معرکے کے بعد الدور کے مقام پرقبضہ کیا ہے۔ الدور اور سامراء شہروں کے درمیان داعشی جنگجوئوں نے خود کو محصور کرلیا ہے۔ تاہم عراقی فوج کی بھاری توپخانے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری جاری ہے۔

عراقی وزیردخلہ محمد الغبان کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج نے بھرپور کارروائی کرکے شمالی شہر سامراء میں دہشت گردوں کے کئی مراکز تباہ کردیے ہیں۔ فوج قبائل کی مدد کے ساتھ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور آئندہ چند گھنٹوں کے دوران سامراء کو دہشت گردوں آزاد کرانے کی نوید سنی جاسکتی ہے۔