.

نیتن یاہو: دو ریاستی حل کی حمایت سے دستبرداری کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت سے دستبرداری کی تردید کردی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان اتوار کو شائع کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے چھے سال قبل جو تقریر کی تھی ،وہ اب ان کے بہ قول غیر متعلق ہوچکی ہے۔اس تقریر میں انھوں نے پہلی مرتبہ عشروں پرانے تنازعے کے دو ریاستی حل اور فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ان کے دفتر نے میڈیا کی ان رپورٹس کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے کبھی اس طرح کی بات نہیں کی تھی۔لیکوڈ پارٹی نے بظاہر اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کی تردید میں بیان جاری کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے سابقہ دور حکومت میں 2009ء میں 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں سے انخلاء کے لیے مذاکرات کیے تھے۔

لیکن اب ان کی جماعت کے سخت گیر انتہا پسندوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''نیتن یاہو نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں سے کوئی انخلاء نہیں ہوگا یا فلسطینیوں کو کوئی رعایتیں نہیں دی جائیں گی اور اس طرح کی تجویز اب غیر متعلق ہوچکی ہے''۔

لیکن نیتن یاہو کے دفتر نے لیکوڈ پارٹی کے اس بیان ہی کی تردید کردی ہے اور کہا ہے:''وہ ایک عرصے سے اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال میں اگر کسی سرزمین سے قبضہ ختم کیا جاتا ہے تو اسلامی انتہا پسند اس پر قابض ہوجائیں گے''۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم گذشتہ سال اپریل میں فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات میں تعطل کے بعد متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس خطرے کے پیش نظر زیر قبضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہوں گے کہ مبادا وہ اسلامی جنگجوؤں کے ہتھے چڑھ جائیں۔

نیتن یاہو کی کَہ مکرنیوں اور ان کے نت روز بدلتے بیانات سے متعلق اسرائیلی میڈیا میں رپورٹس ایسے وقت میں شائع ہوئی ہیں جب صہیونی ریاست میں 17 مارچ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے زور شور سے مہم جاری ہے۔ان انتخابات میں نیتن یاہو کا بائیں بازو کی جماعت صہیونیت یونین کے لیڈر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ سخت مقابلہ ہے۔صہیونیت یونین کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی چاہتی ہے۔