.

حماس کی تین سال کے لیے مشروط جنگ بندی کی تجویز کا اسرائیلی دعویٰ

حماس کی جانب سے جنگ بندی کی پیش کش کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط پر تین سال کے لیے اسرائیل سے جنگ بندی کی پیش کش کی ہے تاہم دوسری جانب حماس نے اسرائیل سے مشروط جنگ بندی کی خبروں کی صحت سے انکار کیا ہے۔

اسرائیل کے ایک عبرانی نیوز ویب پورٹل "وللا" نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حماس نے دوسرے ممالک کے توسط سے اسرائیل کو تین سال کے لیے مشروط جنگ بندی کا پیغام پہنچایا ہے۔ حماس نے جنگ بندی کے لیےغزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کی شرط عاید کی ہے۔

اسرائیلی ویب سائیٹ کے مطابق حماس کی جانب سے جنگ بندی کی پیش کش جماعت کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق کی جانب سے اقوام متحدہ کے ایلچی رابرٹ سیری کے ذریعے اسرائیل تک پہنچائی گئی۔

اس غیر مصدقہ خبر کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ وہ تین سال کے لیے اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کی عسکری کارروائیاں روکنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر عاید اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہو۔

حماس کی جانب منسوب اس خفیہ دستاویز میں عالمی برادری سے غزہ کی تمام راہ داریوں کو فوری طورپر کھولنے، غذائی سامان کی غزہ کو ترسیل یقینی بنانے، غزہ کی پٹی کے ماہی گیروں کو آزادانہ ماہی گیری کی اجازت دینے، غزہ میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور بین الاقوامی بندرگاہ قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل کے ساتھ مشروط جنگ بندی سے متعلق کسی بھی پیش کش کی سختی سے تردید کی ہے۔ حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی پیش کش حماس نے نہیں کی بلکہ یہ پیش کش تو عالمی برادری کی جانب سے حماس سے کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ فی الحال ان کی جماعت جنگ بندی سے متعلق معاملے پر کوئی بات چیت نہیں کرے گی کیونکہ یہ معاملہ اس وقت فلسطین کی سیاسی جماعتوں قومی مفاہمتی ایجنڈے میں بھی زیرغور ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2007ء میں غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کے قیام کے بعد اسرائیل نے نہ صرف غزہ پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں بلکہ آٹھ سال کے دوران تین بار غزہ کی پٹی پر جنگیں بھی مسلط کی جاتی رہی ہیں۔