.

مصر:سیناء میں حملے،دو افراد ہلاک ،27 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں جنگجوؤں کے حملوں میں ایک فوجی افسر سمیت دو افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سیناء میں مسلح افراد نے فوج کی ایک گاڑی پر حملہ کیا ہے۔اس حملے میں ایک افسر ہلاک اور تین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔اس سے پہلے صوبہ شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری گاڑی پولیس کے ایک بیس کے داخلی دروازے پر دھماکے سے اڑا دی ہے جس سے ایک شہری ہلاک اور چوبیس پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

العریش میں رات کا کرفیو نافذ ہے اور خودکش بمبار نے منگل کی صبح چھے بجے کرفیو کا وقت ختم ہونے کے فوری بعد حملہ کیا تھا۔ایک سکیورٹی عہدے دار کے مطابق خودکش بمبار واٹر ٹینکر میں سوار تھا اور یہ بارود سے بھرا ہوا تھا۔اس نے ٹینکر کو پولیس بیس کے ایک گیٹ سے اندر داخل کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے اس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں بارود پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا۔

ان حملوں سے ایک روز قبل العریش کے مشرق میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں تین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔واضح رہے کہ العریش اور سیناء کے دوسرے علاقوں میں جولائی 2013ء میں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے جنگجو گروپ سکیورٹی فورسز پر بیسیوں حملے کر چکے ہیں۔

جنوری میں العریش میں ایک فوجی اڈے،اس کے نزدیک واقع پولیس ہیڈ کوارٹرز اور پولیس اور فوج کے افسروں کے لیے اقامتی کمپلیکس پر راکٹ اور کاربم حملے میں چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں سے زیادہ تر فوجی تھی۔

شمالی سیناء میں گذشتہ سال اکتوبر میں فوج کے ایک اڈے پر جنگجوؤں کے حملے کے بعد سے رات کا کرفیو نافذ ہے۔اس حملے میں تیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔مصری فوج اس وقت سیناء اور غزہ کی پٹی کے درمیان ایک بفر زون بھی قائم کررہی ہے تاکہ فلسطینی علاقے سے جنگجوؤں کی دراندازی کو روکا جاسکے۔

سیناء میں داعش سے وابستہ انصار بیت المقدس (اب صوبہ سیناء) اور دوسرے جنگجو گروپ 3 جولائی 2013ء کو مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں۔ان حملوں میں سیکڑوں فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔انصار بیت المقدس نے گذشتہ سال کے آخر میں اپنا نام تبدیل کر لیا تھا اوراپنا نیا نام صوبہ سینا رکھ لیا تھا۔اسی جنگجو گروپ نے جنوری کے آخر میں سیناء میں سکیورٹی فورسز پر بیک وقت متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔