.

داعش کی شام اور عراق کے درمیان سپلائی لائنز تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے خلاف فضائی کارروائیاں کرنے والے عالمی اتحاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے شام اور عراق کے درمیان انتہاپسندوں کے انتہائی اہم رابطوں اور سپلائی لائنز کو دو ہفتوں کے آپریشن کے دوران تباہ کردیا ہے۔

کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس نے ایک بیان بتایا " فضائی حملوں کی مدد سے شمال مشرقی شام میں سٹریٹیجک اہمیت کے حامل قصبے تل حمیس کے قریب داعشی مزاحمت پر قابو پالیا گیا اور گروپ کی علاقے میں نقل وحرکت کو محدود کردیا۔"

ہفتے کے روز ختم ہونے والے اس آپریشن کے دوران داعش نے عراق میں افرادی قوت اور سامان کی نقل وحرکت کے لئے استعمال کئے جانے والے بنیادی روٹ کھو دئیے۔

ٹاسک فورس کے مطابق "داعش مخالف فوجیں شام میں روٹ 47 کے اہم حصوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئی جو کہ عراق میں ترسیل ورسد کے لئے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔" بیان کے مطابق اتحادی فوج نے انتہاپسندوں کے نرغے سے 94 دیہاتیوں کو رہا کروانے میں کامیابی حاصل کرلی۔

اتحاد کے مطابق ان کارروائیوں میں داعش کے متعدد ہتھیاروں کے نظام، گاڑیاں اور مورچے تباہ کردئیے گئے تھے۔ کرد فوجیوں نے 27 فروری کو تل حمیس پر قبضہ کرلیا تھا مگر علاقے میں لڑائی جاری رہی تھی۔