.

عراقی فورسز داعش کے زیر قبضہ تکریت میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی مسلح افواج اور ان کے معاون شیعہ جنگجو دستے داعش کے زیر قبضہ شمالی شہر تکریت کے ایک حصے میں داخل ہوگئے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک میجر جنرل نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''ہم اب قادسیہ کے علاقے کو جنگجوؤں سے پاک کرنے کے لیے جنگی کارروائی کررہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم تکریت کے فوجی اسپتال کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔یہ شہر کے وسط کے نزدیک واقع ہے لیکن ہمیں مزاحمتی لڑائی کا سامنا ہے کیونکہ ہمارا برسرزمین جنگجوؤں سے تو کوئی مقابلہ نہیں ہورہا ہے لیکن ہمیں کھلونا بموں اور گھات لگا کر فائر کرنے والوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہماری نقل وحرکت سست روی کا شکار ہے''۔

اس عراقی افسر نے مزید بتایا ہے کہ بدھ کی صبح قادسیہ کے علاقے میں داخل ہونے والی فورسز میں فوج اور پولیس شامل ہے۔ان کے ساتھ عوامی یونٹوں کے رضاکاروں کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

عراقی فورسز گذشتہ دس روز سے تکریت کو داعش سے آزاد کرنے کے لیے کارروائی کررہی ہیں اور انھوں نے گذشتہ چند روز سے تکریت کے نزدیک ڈیرے ڈال رکھے تھے لیکن انھوں نے شہر میں داخل ہونے سے گریز کیا ہے اور نواحی علاقوں میں صرف محدود پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔

بعض دوسرے عسکری اور سیاسی ذرائع نے بھی عراقی فورسز کے قادسیہ کے ایک حصے پر دوبارہ کنٹرول کی تصدیق کی ہے۔یہ علاقہ تکریت سے شمال میں واقع ہے۔عراقی فورسز نے مسلح قبائلیوں اور شیعہ رضا کاروں کے ساتھ مل کر منگل کو داعش کے زیر قبضہ تکریت کے مرکز کی جانب چار اطراف سے چڑھائی کی تھی۔

جون 2014ء میں دولت اسلامی عراق وشام کے جنگجوؤں کی شام کے شمالی شہروں میں یلغار کے بعد سرکاری فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کی یہ پہلی بڑی جوابی کارروائی ہے۔داعش نے قبل ازیں اپنے زیر قبضہ دوسرے علاقوں سے تکریت کے دفاع کے لیے کمک بھیجی ہے لیکن اس دوران عراقی فورسز نے ان کی سپلائی لائن کو منقطع کردیا ہے اور اب ان کے لیے کمک پہنچنے کے راستے مسدود ہوچکے ہیں۔اس آپریشن میں عراقی سکیورٹی فورسز ،شیعہ ملیشیاؤں اور سنی قبائل پر مشتمل رضاکار دستوں کے قریباً تیس ہزار اہلکار اور جنگجو حصہ لے رہے ہیں۔