.

امریکی جنرل موصل میں ترکی کی مدد کے خواہاں

عراقی فورسز کی تکریت کو آزاد کرانے کے بعد موصل کی جانب پیش قدمی کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی تکریت میں دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں کو شکست دینے کے بعد اب عراقی فورسز ،ان کے معاون رضا کار دستے اور شیعہ ملیشیائیں موصل کی جانب پیش قدمی کی تیاریوں میں ہیں۔عراق میں غیرملکی فورسز کی کمان کرنے والے امریکی جنرل نے اس تناظر میں ترکی کا دورہ کیا ہے اور موصل میں داعش کے خلاف جنگ میں ترکی سے مدد طلب کی ہے۔

ترک روزنامے زمان کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ آرمی جنرل لائیڈ آسٹن نے بدھ کو انقرہ میں ترکی کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل نجدت اوزل سے ملاقات کی ہے اور انھیں ترکی سے متعلق اپنی توقعات سے آگاہ کیا ہے۔جنرل اوزل نے مہمان جنرل پر ترکی کا موقف واضح کیا ہے لیکن اخبار نے ان دونوں کی ملاقات کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور امریکا کے درمیان حال ہی میں شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے باغیوں کو تربیت دینے کا سمجھوتا طے پایا تھا لیکن عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں ترکی کا کردار واضح نہیں ہے اور جنرل لائیڈ آسٹن نے پہلی مرتبہ ترکی سے موصل کی بازیابی کے لیے فوجی کارروائی میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عراق کی مسلح افواج اور شیعہ ملیشیائیں بدھ کو تکریت میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوگئی تھیں اور انھوں نے دس روز کی کارروائی کے بعد سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر کو داعش کے قبضے سے واگزار کرالیا ہے۔اب اس کے بعد وہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کی جانب پیش قدمی کی تیاری کررہی ہیں۔

گذشتہ ہفتہ امریکا کی سنٹرل کمان کے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ موصل پر چڑھائی کے لیے عراقی اور کرد فورسز پر مشتمل بیس سے پچیس ہزار سپاہ تیار کی جارہی ہے اور توقع ہے کہ اپریل میں موصل کو آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عراق میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز کے کمانڈر نے ایسے وقت میں ترک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی ہے جب امریکا کی جانب سے عراق میں ایران کے کردار پر تنقید کی گئی ہے۔امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ تکریت کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے جنگ میں ایرانی مشیروں کی موجودگی امریکا کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمارے لیے سب سے تشویش ناک امر یہ ہے کہ ایران کے فوجی مشیروں کی موجودگی سے عراق میں فرقہ واریت کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے اور اس سے داعش کے خلاف مہم کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے''۔ ایران اس وقت عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں متعدد ملیشیاؤں کی پشتی بانی کررہا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی شیعہ ملیشیاؤں کی داعش مخالف مہم میں شرکت پر اپنی تشویش کا اظہار کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے یہ ملیشیائیں داعش کے زیر قبضہ شہروں میں لڑائی کے دوران عام شہریوں کو انتقامی حملوں کا نشانہ بنا سکتی ہیں۔