.

لبنانی پارلیمان 20 ویں اجلاس میں بھی صدر منتخب نہ کرسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی پارلیمنٹ صدارت کا عہدہ خالی ہونے کے نو ماہ مکمل ہونے کے باوجود ایک بار پھر صدر کا عہدہ پر کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ لبنان کے ہمسائیہ ملک شام میں جاری بحران کے باعث پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں 20 انتخابات کے باوجود ابھی تک لبنانی صدر کا انتخاب ممکن نہیں ہوسکا ہے۔

لبنان میں صدارت کے عہدے کا اتنے لمبے دورانیے تک خالی رہنے کا یہ عرصہ 1990ء میں لبنانی خانہ جنگی کے بعد سب سے لمبا عرصہ ہے۔

لبنانی پارلیمان کے سپیکر نبیہ بری کے دفتر کے مطابق "سپیکر نے کورم مکمل نہ ہونے کی بناء پر صدارتی الیکشن 2 اپریل تک ملتوی کردیا ہے۔"

لبنانی پارلیمنٹ میں 128 ممبران میں سے 55 اجلاس کے موقع پر موجود تھے جو کہ دو تہائی کورم کی لازمی تعداد سے کم تھے۔ لبنان 25 مئی 2014ء سے مائیکل سلیمان کے صدارتی مدت ختم ہونے کے بعد سے صدر سے محروم ہے۔

یہ عہدہ زیادہ تر رسمی ہی ہوتا ہے اور حالیہ سالوں کے دوران صدارتی اختیارات میں بہت کمی کردی گئی تھی۔ لبنانی آئین کے مطابق صدر مملکت کی غیر موجودگی کی صورت میں تمام وفاقی حکومت کو مل جاتیں ہیں جن کی سربراہی وزیراعظم تمام سلام کررہے ہیں۔

لبنانی سیاسی جماعتیں ہمسایہ ملک شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف ہونے والی بغاوت کے حامیوں اور مخالفین میں تقسیم ہیں جس کی وجہ سے صدر کے انتخاب میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لبنان میں متنوع عقائد کے حکومتی نظام کے تحت روایتی طور پر صدارت میرونائیٹ مسیحی شہری جبکہ وزارت عظمیٰ سنی اور سپیکر اسمبلی کا عہدہ شیعہ فرقے کے حوالے کیا جاتا ہے۔