.

یواین سلامتی کونسل:شام میں جاری خونریزی کی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی پانچویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور امداد دینے والے اداروں اور ایجنسیوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خانہ جنگی سے متاثرہ شامی عوام کے مسائل ومصائب کا ذمے دار ٹھہرایا ہے جو ان کے بہ قول اپنی تین قرار دادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی اکیس تنظیموں نے ''ناکام ہوتا ہوا شام'' کے عنوان سے ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں دنیا کی بڑی طاقتوں کی شامی بحران سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکامی پر مذمت کی گئی ہے۔

شام میں مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کی مطلق العنان حکمرانی کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہروں سے بحران کا آغاز ہوا تھا لیکن ان کی حکومت کے مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے بعد یہ پُرامن احتجاجی تحریک مسلح خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی تھی۔

شام کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے گروپوں کی شکل میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے اور فوجیوں کی کثیر تعداد بھی منحرف ہوکر ان کے ساتھ آن ملی تھی جس کے بعد ان باغی گروپوں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان گذشتہ چار سال کے دوران لڑائی ،بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں دو لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی اس وقت بے گھر ہے۔

سال 2014ء کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی تنازعے سے متعلق تین قراردادیں منظور کی تھیں اور ان میں تنازعے کے تمام مسلح فریقوں وکرداروں پر زوردیا گیا تھا کہ وہ غیر مسلح شہریوں کا تحفظ کریں اور لاکھوں شامیوں تک انسانی امداد بہم پنچانے کے لیے زیادہ رسائی دیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعے کے فریقوں نے ان قراردادوں کو نظر انداز کردیا تھا اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے بھی ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔گذشتہ سال شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں اور قریباً چھہتر افراد مارے گئے تھے۔

خانہ جنگی کا خاتمہ؟

اب یہ خانہ جنگی پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے اور مستقبل قریب میں اس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے۔نارویجئین ریفیوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل اور اس رپورٹ کے ایک لکھاری جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ ''یہ ہمارے نظریات سے غداری ہے کہ ہم 2015ء میں بھی لوگوں کو مصائب کا شکار اور مرتے ہوئے دیکھتے رہیں''۔

رپورٹ میں شام کی سرکاری فورسز اور باغیوں دونوں پر بلاامتیاز شہریوں ،شہری ڈھانچے ،اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت اڑتالیس لاکھ شامی ان علاقوں میں رہ رہے ہیں ،جن کے بارے میں اقوام متحدہ نے یہ نشان دہی کی ہے،ان تک رسائی ممکن نہیں ہے اور یہ تعداد 2013ء کے مقابلے میں دُگنا ہے۔

اس رپورٹ پر عالمی امدادی اداروں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی ،آکسفیم ،سیو دا چلڈرن نے بھی دستخط کیے ہیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ شامی شہریوں کی احتیاجات بڑھنے کے ساتھ ساتھ انھیں امداد مہیا کرنے کے لیے فنڈز میں اضافہ نہیں ہوا ہے اور گذشتہ سال شامیوں کے لیے درکار رقم کا صرف 57 فی صد مہیا کیا گیا تھا۔

جان ایگلینڈ کا کہنا تھا کہ آیندہ سال کے دوران اقوام متحدہ کو شامی شہریوں کو امداد مہیا کرنے کے لیے قریباً آٹھ ارب چالیس کروڑ ڈالرز درکار ہوں گے۔یہ 2013ء میں سوچی میں منعقدہ سرمائی اولمپکس پر اٹھنے والے اخراجات کا صرف چھٹا حصہ ہے۔روس نے سوچی اولمپکس پر تو اتنی زیادہ رقوم صرف کردی تھیں لیکن اس نے شامیوں کے لیے کوئی قابل ذکر امداد نہیں دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''عالمی برادری کو شام میں جاری بحران کا آیندہ دو نسلوں تک سامنا رہے گا۔ہم لاکھوں شامی نوجوانوں کو کوئی امید نہیں دلا رہے ہیں۔اس کے باوجود ہم یہ بھی یقین کیے بیٹھے ہیں کہ وہ انتہا پسندی کی جانب راغب نہیں ہوں گے''۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک کروڑ بارہ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔گذشتہ بیس سال میں کسی ملک میں مہاجرین کا یہ سب سے بڑا بحران ہے۔شام کی آبادی میں پندرہ فی صد کمی واقع ہوئی ہے اور شہریوں کی متوقع عمر میں چوبیس سال کی کمی ہوچکی ہے۔بحران سے قبل شامی شہریوں کی اوسط عمر 79 سال تھی جو اب کم ہو کر 55 سال رہ گئی ہے۔ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں 120 ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوچکی ہے اور ہر پانچ میں سے چار شامی خطِ غربت سے نیچے کی زندگی بسر کررہے ہیں۔