.

شامی صدر بشارالاسد کو جانا ہوگا:امریکا

سلامتی کونسل شامی جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے:بین کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی کو چار سال پورے ہوگئے ہیں اور پانچویں سال کے آغاز پر امریکا نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کو جانا ہوگا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین سکئی نے واشنگٹن میں جمعرات کی شب معمول کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ''گذشتہ چار سال کے دوران بشارالاسد کی حکومت نے شامیوں کے آزادی اور اصلاحات کے مطالبے کا جواب بے رحم سفاکیت ، جبر واستبداد اور تباہی کی صورت میں دیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم بہت پہلے سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا اور ان کی جگہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی انتقال اقتدار ہونا چاہیے اور شامی عوام کی نمائندہ حکومت قائم ہونی چاہیے''۔امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ''بشارالاسد کی رخصتی کے بغیر ملک میں مکمل استحکام ممکن نہیں ہوگا''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شامی اپنے ملک میں جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہورہے ہیں تو ایسے میں وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ دنیا نے انھیں تنہا چھوڑ دیا ہے اور ان کا وطن تار تار ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''دنیا کی نظروں کے سامنے شامی عوام کے مصائب کا سلسلہ جاری ہے۔عالمی برادری ابھی تک منقسم ہے اور شام میں جاری ہلاکتوں اور تباہی کو روکنے کے لیے اجتماعی اقدام کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے''۔

شام میں مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کی مطلق العنان حکمرانی کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہروں سے بحران کا آغاز ہوا تھا لیکن ان کی حکومت کے مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے بعد یہ پُرامن احتجاجی تحریک مسلح خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی تھی۔شام کے مختلف علاقوں میں ان باغی گروپوں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان گذشتہ چار سال کے دوران لڑائی ،بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں دو لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی اس وقت بے گھر ہے۔ان میں قریباً چالیس لاکھ پڑوسی ممالک میں مہاجرت کی زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ قریباً چھہتر لاکھ اندرون ملک ہی دربدر ہیں۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی اکیس تنظیموں نے ''ناکام ہوتا ہوا شام'' کے عنوان سے حال ہی میں ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں دنیا کی بڑی طاقتوں کی شامی بحران سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکامی پر مذمت کی گئی ہے۔

ان امدادی اداروں اور ایجنسیوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خانہ جنگی سے متاثرہ شامی عوام کے مسائل ومصائب کا ذمے دار ٹھہرایا ہے جو ان کے بہ قول اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔سال 2014ء کے دوران سلامتی کونسل نے شامی تنازعے سے متعلق تین قراردادیں منظور کی تھیں اور ان میں تنازعے کے تمام مسلح فریقوں وکرداروں پر زوردیا گیا تھا کہ وہ غیر مسلح شہریوں کا تحفظ کریں اور لاکھوں شامیوں تک انسانی امداد بہم پنچانے کے لیے زیادہ رسائی دیں مگر سلامتی کونسل اپنی ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کراسکی ہے۔