.

شام: چار سال میں 2 لاکھ ،15 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی پانچویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور گذشتہ چار سال کے دوران لڑائی کے نتیجے میں دو لاکھ پندرہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں مارچ 2011ء کے بعد سے دو لاکھ پندرہ ہزار پانچ سو اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں چھیاسٹھ ہزار سے زیادہ عام شہری ہیں۔آبزرویٹری نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ گذشتہ پانچ ہفتوں کے دوران شام میں تشدد کے واقعات میں قریباً پانچ ہزار افراد مارے گئے ہیں۔

شام میں جاری تنازعے میں مرنے والوں کی ایک تہائی تعداد عام شہریوں کی ہے جبکہ باقی مرنے والے لڑاکا جنگجو ،باغی یا سرکاری فوجی تھے۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ لڑائی میں چھیالیس ہزار ایک سو اڑتیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور حکومت کی حامی ملیشیاؤں کے تیس ہزار سے زیادہ جنگجو میدان جنگ میں کام آئے ہیں۔ان میں 3401 بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجو تھے۔ان میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکڑوں کارکنان بھی شامل ہیں۔

آبزرویٹری نے شام میں جاری خانہ جنگی میں جہادی اور غیرجہادی گروپوں کے کارکنوں کی ہلاکتوں کے اعداد وشمار بھی فراہم کیے ہیں۔اس کے مطابق دولت اسلامی عراق وشام اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے قریباً ستائیس ہزار جنگجو مارے گئے ہیں۔

خانہ جنگی میں شام کے باغی جنگجوؤں کی انتالیس ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان میں جہادیوں سے لڑنے والے کردملیشیا کے اہلکار بھی شامل ہیں۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے 3147 افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے بہ قول ہلاکتوں کے یہ اعدادوشمار حتمی نہیں ہیں اور تمام مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ حکومت کے زیر حراست قریباً بیس ہزار افراد کو لاپتا کردیا گیا تھا اور ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں یا مارے جاچکے ہیں۔ان کے علاوہ جہادی یا باغی گروپوں نے جن سیکڑوں لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا،ان کے بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ شام میں دو لاکھ پندرہ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں لیکن گذشتہ چار سال کے دوران کسی ایک شخص کے قتل کے ذمے داروں کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ کسی کوعدالت میں قصوروار ٹھہرا کر سزا دی گئی ہے جس کی وجہ سے شام میں ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔