.

تکریت:داعش کے بم،عراقی فورسز کی پیش قدمی میں حائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر تکریت میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی جانب سے جگہ جگہ نصب کیے گئے بموں کی وجہ سے سرکاری سکیورٹی فورسز اور ان کی حامی ملیشیاؤں کی پیش قدمی رک چکی ہے اور وہ شہر پر مکمل کنٹرول نہیں کرسکی ہیں۔

تکریت پر دوبارہ قبضے کے لیے عراقی فورسز کے شانہ بشانہ لڑنے والی شیعہ ملیشیا اصیب اہل الحق کے ترجمان جواد العتلباوی نے داعش کی جنگی تیاریوں کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ ''تکریت پر دوبارہ قبضے کے لیے لڑائی بہت مشکل ہوگی۔انھوں نے تمام شاہراہوں،گلیوں بازاروں،عمارتوں ،پُلوں اور ہر جگہ بم نصب کردیے ہیں۔اس وجہ سے ہماری فورسز رُک چکی ہیں''۔

اس ترجمان کا کہنا ہے کہ ''ہمیں شہری علاقوں میں گوریلا جنگ کی تربیت یافتہ فورسز درکار ہیں۔جہادیوں کا محاصرہ کیا جاچکا ہے لیکن ہر محصور شخص بے جگری اور دلیری سے لڑتا ہے''۔

عراقی فورسز نے صوبہ صلاح الدین کے دارالحکومت اور سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر پر دوبارہ قبضے کے لیے 2 مارچ کو آپریشن کا آغاز کیا تھا۔اس کے بعد سے عراقی فورسز شہر کا محاصرہ کرنے اور دریائے دجلہ کے دونوں جانب واقع دیہات اور قصبوں پر قبضہ کرنے میں تو کامیاب ہوگئی ہیں لیکن ان کے لیے شہر کے اندر داخل ہونا مشکل ہورہا ہے۔

صوبہ صلاح الدین میں عراقی فوج کے کمانڈر اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں تکریت میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی فضائی مدد درکار ہے اور انھوں نے وزارت دفاع سے کہا تھا کہ وہ اتحادی فورسز سے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی درخواست کرے لیکن اتحادیوں کی جانب سے ابھی تک کوئی فضائی مدد نہیں آئی ہے۔

عراقی فورسز اور ان کی معاون ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیائیں گذشتہ بدھ کو تکریت میں داخل ہوئی تھیں اور انھوں نے جمعرات کو شہر کے مرکز میں پہنچنے اور اپنی فتح کا اعلان کیا تھا لیکن انھیں قریباً ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی تکریت کے محاذ پر فتح حاصل نہیں ہوسکی ہے۔انھیں داعش کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور ان کے فتح کے دعوے ادھورے رہ گئے ہیں۔

اس وقت تکریت کی برسرزمین صورت حال واضح نہیں ہے۔صحافیوں نے وہاں املاک کو نذرآتش ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔عراقی فورسز کی حامی شیعہ ملیشیا کی جانب سے داعش کے حامیوں کے مکانوں کو نذرآتش کرنے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔امریکا کے ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ تکریت میں شہریوں کی بہت کم ہلاکتیں ہوئی ہیں کیونکہ ان کی کثیر تعداد پہلے ہی اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں کی جانب چلی گئی تھی۔

امریکا کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے گذشتہ ہفتے کانگریس کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور عراقی سکیورٹی فورسز تکریت کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گی لیکن انھوں نے وہاں سنی مسلمانوں سے ان ملیشیاؤں کے ممکنہ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ بغداد حکومت نے تکریت میں داعش کے خلاف مہم کے دوران فضائی مدد طلب نہیں کی تھی بلکہ اس کے بجائے اس نے پڑوسی ملک ایران سے عسکری زمینی مدد پر انحصار کیا ہے۔ایران نے اپنے پاسداران انقلاب کے کمانڈر کو عراق میں بھیج رکھا ہے جو داعش کے خلاف جنگ کی نگرانی کررہے ہیں۔