.

شام:زہریلی گیس کے حملے میں 6 افراد کی ہلاکت

صوبہ ادلب کے ایک گاؤں پر بیرل بموں کے دو حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں زہریلی گیس کے حملے میں تین کم سن بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ صوبہ ادلب کے ایک گاؤں سرمین میں سوموار کی شب بیرل بم گرایا گیا تھا جس کے نتیجے میں تین بچے ،ان کے ماں باپ اور دادی اماں کا دم گھنٹنے سے انتقال ہوگیا ہے۔

آبزرویٹری نے ڈاکٹروں کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیرل بم سے ممکنہ طور پر کلورین گیس کا اخراج ہوا تھا جس سے ان افراد کی اموات ہوئی ہیں۔سرمین کی مقامی رابطہ کمیٹی کے مطابق حملے میں کلورین گیس کا استعمال کیا گیا ہے۔اس نے گاؤں میں قائم کیے گئے ایک فیلڈ اسپتال کی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر جاری کی ہے جس میں حملے سے متاثرہ افراد نے اپنے چہروں پر گیس ماسک چڑھا رکھے ہیں اور وہ کھانس رہے ہیں۔

ایک اور ویڈیو میں فیلڈ اسپتال میں لوگ تین بے حس وحرکت کم سن بچوں کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ پیلے پڑ چکے ہیں اور ان کے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نظر آرہے ہیں۔ان کے منھ سے جھاگ اور ناک سے رطوبت نکل رہی ہے۔بعد میں ان تینوں بچوں کو مردہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ان کی سفید کپڑے میں لپٹی میتوں کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں شئیر کیا گیا ہے۔

اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ابراہیم الادلبی نامی ایک کارکن نے بھی گاؤں پر دو بیرل بموں کے حملوں میں چھے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے کہا کہ رضاکاروں نے حملے کا نشانہ بننے والے دیہاتیوں پر پانی گرا کر انھیں مہلک گیس کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔

شامی کارکنان ماضی میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر شہری علاقوں میں کلورین گیس کے استعمال کا الزام عاید کرچکے ہیں۔شامی حزب اختلاف کے سربراہ خالد خوجہ نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور ایک ٹویٹر میں لکھا ہے کہ نفسیاتی مریض آمر بشارالاسد نے کیمیاوی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں بشارالاسد کی فوج پر حزب اختلاف اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بیرل بم برسانے کے الزامات بھی عاید کرچکی ہیں۔حالیہ مہینوں کے دوران شام کے شمالی علاقوں میں دھماکا خیز مواد سے بھرے ہوئے یہ ڈرم ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گرائے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مارچ میں شام میں کلورین گیس کے استعمال کے خلاف امریکا کی جانب سے پیش کردہ مذمتی قرار داد منظور کی تھی اور مستقبل میں کیمیائی حملوں کی صورت میں شام کے خلاف پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔اس قرارداد میں شام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے لیے کام کرنے والی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے تحقیقاتی مشن کے ساتھ تعاون کرے۔

سلامتی کونسل میں یہ قرارداد او پی سی ڈبلیو کی جانب سے جنوری میں پیش کردہ ایک رپورٹ کے تناظر میں تیار کی گئی تھی۔اس میں اس تنظیم نے انتہائی بااعتماد انداز میں کہا تھا کہ گذشتہ سال شام کے تین دیہات میں کلورین گیس استعمال کی گئی تھی۔او پی سی ڈبلیو کے تحقیقاتی مشن نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2014ء میں تین دیہات پر کلورین گیس کے حملوں میں ساڑھے تین سو سے ساڑھے پانچ سو تک افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں تیرہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار داد نمبر 2118 کے تحت شام پر کیمیائی ہتھیار تیار کرنے ،رکھنے ،ذخیرہ کرنے یا ان کے استعمال پر پابندی عاید ہے۔وہ ان کی نقل وحمل بھی نہیں کرسکتا اور نہ دوسرے ممالک کو سپلائی کرسکتا ہے۔