.

توقعات کے برعکس، یاہو اسرائیلی انتخاب میں آگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے گذشتہ روز ہونے والی پولنگ کے ابتدائی سرکاری نتائج کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت ’’لیکوڈ‘‘ نے رائے عامہ کے تمام جائزے غلط ثابت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک 70 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل کی جا چکی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت 23.73 فی صد ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ ان کے سب سے مضبوط حریف ’’صہیونی اتحاد‘‘ کے سربراہ اسحاق ہرزوگ 19.06 فی صد ووٹ حاصل کر سکے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے کس پارٹی کا پارلیمنٹ میں کیا مقام ہے تاہم اسرائیلی ریڈیو کا کہنا ہے کہ انتخابات میں لیکوڈ پارٹی کی 30 اور صہیونی اتحاد کی 24 نشستوں کی کامیابی کا اعلان کیا گیا ہے۔

گذشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ ان کی جماعت پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے دورباہ مضبوط حکومت بنائے گی۔

حالیہ انتخابات میں’’لیکوڈ‘‘ کی کامیابی نے نتین یاہو کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے امکانات روشن کر دیے ہیں۔ وہ اس سے قبل سنہ 1996 سے 1999ء تک وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کے دو عبرانی ٹیلی ویژن چینلز’’ٹی وی ون اور ٹی وی 10‘‘ پر کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں بتایا گیا تھا کہ پارلیمانی انتخابات میں صہیونی اتحاد 27 نشستیں حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کرسکتی ہے جبکہ اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 2 کے سروے کے مطابق لیکوڈ کی 28 سیٹوں پرکامیابی کی پیش گوئی کی تھی۔ ٹی وی 2 کی پیش گوئی کافی حد تک درست ثابت ہوئی ہے۔

منگل کی شام کو جیسے ہی غیر حتمی نتائج آنا شروع ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ان کی جماعت واضح فرق کے ساتھ جیتنے کے بعد صہیونی اتحاد کو شکست سے دوچار کرے گی۔ تل ابیب میں اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ قدرت نے ہمیں ایک بار پھر ایک مضبوط حکومت بنانے کا موقع دیا ہے۔

ہرزوگ کا شکست تسلیم کرنے سے انکار

دوسری جانب اسرائیلی سیاسی روایات کے برعکس سیاسی اتحاد ’’صہیونی اتحاد‘‘ کے سربراہ اسحاق ہرزوگ نےانتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے شکست تسلیم کرنےسے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے سنہ 1992ء کے انتخابات سے کہیں زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس لیے وہ کیسے خود کو شکست خوردہ کہہ سکتے ہیں۔ سنہ 1992ء کے انتخابات میں ان کے پاس اس سے بھی کم سیٹیں تھیں لیکن ان کی لیبر پارٹی نے حکومت بنائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں انتخابات کے حتمی نتائج کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ اب تک جو کچھ بھی سامنے آیا ہے وہ صرف رائے عامہ کے نتائج کے مطابق ہے۔

عرب سیاسی اتحاد

اسرائیلی کنیسٹ کے 20 ویں چنائو میں حصہ لینے والے سیاسی اتحادوں میں تیسرے نمبر پراسرائیل کی عرب سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ہے۔ انتخابات سے قبل رائے عامہ کے تمام جائزوں میں ’’عرب یونین‘‘ کو تیسرے بڑے دھڑے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق عرب اتحاد پارلیمانی انتخابات میں 13 سے 15 نشستیں حاصل کر سکتا ہے۔ پچھلے انتخابات میں 120 کے ایوان میں عرب جماعتوں کے پاس 12 سیٹیں تھیں۔

فلسطین کے سنہ 1948ء کے عرب شہروں سے پہلی بار بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے گھروں سے نکلے ہیں۔ اتحاد کے سربراہ ایمن عودہ کو توقع ہے کہ اتحاد میں شامل چار جماعتیں مل کر 15 سیٹیں جینتے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ انہوں نے اپنے انتخابی نعرے میں اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں کو سب سے نمایاں کرکے پیش کیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے عرب باشندے کل آبادی کا 20 فی صد ہیں۔ قیام اسرائیل کے بعد سنہ 1948ء میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا تھا۔ اہم اس کے باوجود 160ساٹھ ہزار فلسطینی پھر بھی وہیں رہے۔

فلسطینی اتھارٹی کا موقف

اسرائیل کی پارلیمنٹ کے چنائو کے ابتدائی نتائج سامنے آتے ہی فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ردعمل بھی سامنےآیا ہے۔ اعلٰی فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات نے رام اللہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسرائیلی انتخابی نتائج سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم فلسطینیوں کے حقوق کے لیے عالمی سفارتی مہم کو تیز تر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کی جماعت کی کامیابی کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ اسرائیل میں دوبارہ حکومت بھی نیتن یاہو ہی کی ہو گی۔ اس لیے ہم بھی عالمی فوج داری عدالت میں اپنی سرگرمیاں تیز کردیں گے۔ ہماری سفارتی اور سیاسی مہم نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اس میں تیزی لائی جائے گی۔

صائب عریقات نے اسرائیلی وزیر اعظم بجمن نیتن یاہو کے اس متنازع بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دوبارہ کامیابی کی صورت میں وہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دیں گے۔ یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے گے اور بیت المقدس پر فلسطینیوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

مسٹر عریقات نے کہا کہ عالمی برادری کو نیتن یاہو کے اس بیان کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے منظم ریاستی جرائم کی تحقیقات میں فلسطینی اتھارٹی کے’’آئی سی سی‘‘ سے رجوع میں مدد کرنی چاہیے۔

گذشتہ روز ہونے والے انتخابات کے نتائج یہ واضح کر رہے ہیں کہ اسرائیل میں حکومت دوبارہ نیتن یاہو کی ہو گی۔ گذشتہ روز انتخابات کے موقع پر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر ٹرن آوٹ 71.8 فی صد رہا۔ سنہ 2013ء کے انتخابات میں ٹرن آئوٹ 67.8 فی صد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

پیش آئند حکومت کو درپیش چیلنجز

مبصرین کے مطابق اسرائیل میں نئی بننے والی حکومت کو کئی طرح کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شمال میں لبنان کی سرحد سے حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ خطے میں تیزی سے اپنا دائرہ وسیع کرنے والی جہادی تنظیمیں بھی صہیونی ریاست کے لیے مستقل درد سر رہیں گی۔ ایران کا جوہری پروگرام، فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی اور امریکی ناراضی جیسے اہم مسائل نئی اسرائیلی حکومت سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

انتخابی مہمات کے دوران نیتن یاہو کو ان کےسیاسی مخالفین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو شہریوں کو مہنگائی میں ریلیف فراہم کرنے، باعزت رہائش او سماجی حقوق کی فراہمی میں ناکام رہے ہیں۔