.

رفیق حریری کی اسد خاندان سے ملاقاتوں کے چشم کشا انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق مقتول وزیراعظم رفیق حریری کی شام کے سابق صدر حافظ الاسد اور ان کے فرزند بشارالاسد کے درمیان ہونے والی متعدد ملاقاتوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں میں حافظ الاسد اور بشارالاسد کے تاثرات کا پتا چلتا ہے کہ وہ لبنان کی سیاست میں کس حد تک دلچسپی لیتے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتول رفیق حریری اور اسد خاندان کے ساتھ ملاقاتوں کا انکشاف سابق لبنانی رکن اسمبلی باسم السبع نے حال ہی میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ رفیق حریری اور شام کے سابق صدر حافظ الاسد کے درمیان پہلی ملاقات سنہ 1999ء میں ہوئی۔ یہ ملاقات شامی صدر ہی کی خواہش پر ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی صحت کافی بگڑ چکی تھی۔

رفیق حریری سے ملاقات کا مقصد یہ بتانا تھا کہ شام میں ان کی جگہ اب ان کا فرزند بشارالاسد زمام حکومت سنھبالے گا۔ باسم السبع کہتے ہیں کہ ملاقات ختم ہوئی توحافظ الاسد نے کہا کہ ’’اب شام کا اللہ ہی حامی و ناصر ہو، میں نے اپنے بیٹے [بشارالاسد] کو اس کی زمام کار تفویض کی ہے‘‘۔

باسم السبع نے رفیق حریری اور موجودہ شامی صدر بشارالاسد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا بھی احوال بیان کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اقتدار سنھبالنے کے بعد بشارالاسد اہم شخصیات سے تنہائی میں ملاقاتیں کرتے تھے لیکن جب لبنانی وزیراعظم رفیق حریری ان سے ملنے آئے تو انہوں نے اپنے ساتھ تین فوجی جرنیل بھی بٹھالیے۔ باسم نےاس ملاقات کا احوال رفیق حریری کی اپنی زبان سے سن رکھا ہے۔ رفیق حریری نے کہا کہ جب میں نے بشارالاسد کے ساتھ قریب تین فوجی افسر دیکھے میں حیران رہ گیا کہ صدر اسد تو تنہائی میں بات کرنے کےعادی ہیں۔ وہ کسی بھی اہم شخصیت سے ملاقات کے وقت اپنے ہمراہ کسی مشیر کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتے چہ جائے کہ تین فوجی جنرل ان کے ہمراہ ہیں۔ ملاقات کے دوران جنرل رسم غزالہ، غازی کنعان اور جنرل محمد مخلوف باری باری مجھ سے بات کرتے رہے جبکہ خود صدر بشارالاسد خاموش رہے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر میرے پائوں سے پسینہ چھوٹ گیا۔ میں چاہ رہا تھا کہ جلد از جلد اس ہال سے باہر نکل جائوں، کیونکہ میری اس سے زیادہ توہین اور نہیں ہوسکتی تھی۔"

رفیق حریری کا کہنا تھا کہ جنرل غزالہ کی گفتگو نہایت تلخ تھی۔ اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا "آپ شام اور صدر بشارالاسد کی حمایت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہم نے آپ کی حکومت کے لیے کام کیا ہے اور ہم چاہیں تو آپ کی حکومت کو لپیٹ سکتےہیں‘‘۔

باسم السبع کہتے ہیں کہ سنہ 2005ء کے اوائل میں شامی وزیرخارجہ ولید المعلم بیروت کے دورے پر آئے اور وزیراعظم رفیق حریری سے کہا کہ شامی قیادت ان سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فروری 2005ء میں رفیق حریری اور ولید المعلم کے درمیان ہونے والی ملاقات آخری ثابت ہوئی۔ ملاقات میں باسل فلیحان اور غطاس خوری بھی شریک تھے تاہم اس کے بعد رفیق حریری اور شام میں تنائو مزید بڑھ گیا، جس کے کچھ ہی ہفتوں بعد رفیق حریری کو قتل کردیا گیا۔

باسم السبع نے رفیق حریری کے لبنانی عیسائی پادری پیٹرک پولس مطر سے ملاقات کا احوال بھی بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ملاقات 10 فروری 2005ء کو ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں رفیق حریری نے کہا تھا کہ لبنان شام کے خلاف اور شام لبنان کے خلاف کوئی سخت فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں۔

باسم کا کہنا ہے کہ سنہ 2000ء کے اوائل میں شامی فوج کے کچھ عہدیداروں نے انہیں دھمکی آمیز پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی حالت بہت کمزور ہے۔ آپ کے پاس صرف تین راستے ہیں، موت، جیل یا اقتدار سےعلاحدگی، ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔

السبع کا کہنا ہے کہ رفیق حریری کی حکومت کے لیے مشکلات اس وقت پیدا ہونا شروع ہوگئی تھیں جب لبنان میں امیل لحود صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے رفیق حریری کو اقتدار سے علاحدہ کرنے کے لیے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر بھرپور کوشش کی۔

جب صدر لحود کی مدت میں توسیع کا تنازع پیدا ہوا تو بشارالاسد نے نے رفیق حریری کو طلب کیا۔ رفیق حریری نے امیل لحود کی توسیع کے حوالے سے کوئی رائے دینے کی کوشش کی تو بشارالاسد نے انہیں کہا کہ ’’آپ یہاں اپنی رائے دینے نہیں بلائے گئے بلکہ جو کچھ کہا گیا ہے اس پرعمل درآمد کرو۔ امیل لحود کی مدت صدارت میں توسیع کرو ورنہ بیروت کو تمہارے سر پرتوڑ دیا جائے گا‘‘۔