.

داعش کی غیرمسلموں سے جزیہ وصولی کی رسید منظرعام پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں اپنی خود ساختہ خلافت کے قیام کی دعوے دار سخت گیر تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ نے غیرمسلموں سے جزیہ وصول کا صدیوں پرانا طریقہ ایک بار پھر سے زندہ کردیا ہے۔ داعشی جنگجوئوں نے جب سے شام اورعراق کے شہروں پر قبضہ کیا ہے تب سے وہاں پر پرانے دور کے اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں غیرمسلموں بالخصوص عیسائیوں سے جزیہ کی وصولی کا عمل بھی شامل ہے۔

حال ہی میں ’’رقہ کا خاموشی سے قتل عام‘‘ نامی ایک ویب سائیٹ نے داعش کی جانب سے جزیہ وصولی کی ایک رسید شائع کی ہے۔ اگرچہ یہ رسید پچھلے سال دسمبر کی ہے تاہم پہلی بار یہ پتا چلا کہ ہے کہ داعشی کس طرح جزیہ وصول کرتے ہیں اور اس کا ریکارڈ کیسے رکھا جاتا ہے؟۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی نظر سے گذرنے والی جزیہ وصولی کی رسید میں آرمینی نژاد ایک شامی عیسائی سرکیس یورکی اراکلیان نے 27 ہزار 200 لیرہ کی رقم بہ طور جزیہ ادا کی ہے۔ یہ رسید اس وقت کاٹی گئی ہے جب ایک ڈالر کی قیمت 176 سے 200 شامی لیرہ کے برابر تھی۔ اس حساب جزیہ کی رقم 136 ڈالر بنتی ہے۔ رسید پر16 صفر المظفر 1436ھ کی تاریخ درج ہے اور وصول کندہ داعشی کا نام’’فارق‘‘ لکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ داعش نے شام کے شہر الرقہ میں 26 فروری 2014ء کو عیسائیوں سے جزیہ کی وصولی کا قانون نافذ کیا تھا۔ داعش کی جانب سے دولت کے اعتبار سے عیسائیوں کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ تیرہ گرام خالص سونے کی مالیت کے برابر جائیداد رکھنے والوں کو امیرترین، اس کے نصف مقدار والوں کو متوسط اور اس کا نصف رکھنے والوں کو غربا میں شمار کیا گیا تھا۔ مذکورہ رسید سے ظاہرہوتا ہے کہ سرکیس کا شمار بھی غریب عیسائیوں میں ہوتا ہے۔

ایسے لگ رہا ہے کی رسید کی عجلت میں خانہ پری کی گئی ہے کیونکہ اس میں یہ واضح نہیں ہو رہا ہے کہ آیا یہ جذیہ ایک ماہ، چھ ماہ یا ایک سال کے لیے ہے؟ اغلب امکان یہ ہے کہ یہ رقم ایک سال کے لیے ہے۔

قرون اولیٰ اور وسطیٰ میں غیرمسلموں سے ان کے تحفظ کی خاطر جزیہ وصولی کا طریقہ رائج رہا ہے تاہم مسلم دنیا میں 1855ء کو محمد علی پاشا نے مصر میں عیسائیوں سے جزیہ وصولی کا سلسلہ ختم کر دیا تھا اور اس کے بعد قبطی عیسائیوں کو فوج میں خدمات انجام دینے کا بھی حق دیا گیا۔