.

شامی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،عملہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں اسدی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ گیا ہے ۔باغی جنگجوؤں نے اس ہیلی کاپٹر کے عملے کے چار ارکان کو زندہ حالت میں گرفتار کر لیا ہے اور پانچویں کو مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ ''شمال مغربی صوبے ادلب کے علاقے جبل الزاویہ میں شامی فوج کے اس ہیلی کاپٹر کو زبردستی اتار لیا گیا ہے۔اس میں سوار عملے کو چار ارکان کو اسلامی جنگجوؤں نے گرفتار کر لیا ہے اور پانچویں کونزدیک واقع ایک گاؤں میں مسلح افراد نے ہلاک کردیا ہے''۔

آبزرویٹری نے اس واقعے کی بعض تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ایک تصویر میں ایک پہاڑی پر تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ پڑا ہے اور اس کے ارد گرد لوگ کھڑے ہیں۔ان میں فوجی وردی میں ملبوس بہت سے مسلج جنگجو بھی نظر آرہے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ادلب میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو فنی خرابی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا ہے اور اس کے عملے کی تلاش کا کام جاری ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق اس ہیلی کاپٹر کے عملے کے دو ارکان کو شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے گرفتار کیا ہے اور دو کو ایک اور نامعلوم اسلامی گروپ نے پکڑ لیا ہے۔عملے کے ایک اور رکن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج ہیلی کاپٹروں کو داعش ،القاعدہ یا دوسرے باغی جنگجوؤں پر بیرل بم برسانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔گذشتہ چار سال سے جاری جنگ کے دوران شامی فوج کے متعدد ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوچکے ہیں یا جنگجوؤں نے انھیں مار گرایا ہے۔