.

عرب اسرائیلی رکن پارلیمان کا بدو قبائل کے لئے لانگ مارچ

ایک لاکھ سے زائد بدو بنیادی ضروریات زندگی کے بغیر جینے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ایک سینیئر عرب ممبر پارلیمان نے مقبوضہ فلسطین میں بدو کمیونٹی کی خراب صورتحال میں بہتری کی خاطر اور ان کو درپیش مشکلات کو نمایاں کرنے کے لئے بیت المقدس کے لئے چار روز کا لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔

پچھلے ہفتے ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں منتخب اور عرب پارلیمانی بلاک کے سربراہ ایمن عودہ نے جنوبی نقب سے 100 کلومیٹر کی واک شروع کی ہے۔ ایمن نے بہت عرصے سے نقب میں بدوئوں کے حقوق کے لئے مہم چلا رکھی ہے۔

ایمن عودہ اسرائیل کی بڑی عرب پارٹیوں کے اتحاد 'جوائنٹ لسٹ' کے سربراہ ہیں جس نے پارلیمنٹ کی 120 میں سے 13 سیٹیں جیتی ہیں جس سے وہ کنیسٹ میں تیسرا بڑا گروپ بن چکا ہے۔

حزب اختلاف کے طور پر اس اتحاد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کی عرب اقلیت کے حقوق کے لئے جنگ لڑے گی جو کہ اسرائیل کی آبادی کے پانچویں حصے پر مشتمل ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی کوشش کریں گے۔

عودہ نے بدو کمیونٹی کے وادی آل نام گائوں سے درجنوں حامیوں کے ہمراہ مارچ شروع کیا تھا۔ یہ گائوں اسرائیلی حکام کی جانب سے تسلیم شدہ نہیں ہے۔

مارچ کے شرکاء نعرے لگا رہے تھے کہ "نقب ہمیں بیش قیمت ہے" جبکہ انہوں نے "مارچ برائے شناخت" کے نعرے والی ٹی شرٹس اور ٹوپیاں پہن رکھی تھی۔

عودہ نے اپنی الیکشن مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ پانی، بجلی اور بنیادی ضرورتوں کی دیگر سہولیات سے محروم 40 بدو دیہات کو سرکاری طور پر تسلیم کروائیں گے۔

وہ اس مارچ کے دوران کئی دیہات کا دورہ کریں گے اور رات کے وقت مظاہرین کے ہمراہ کیمپ لگا کر بیٹھیں گے۔

ایمن عودہ نے عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ان دیہات میں بجلی اور پانی نہیں ہے۔ بچوں کو سکول جانے کے لئے دسیوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ گھمبیر بحران ہے اور اسے اسی وقت ختم کرنا ہوگا۔"

اسرائیل میں دو لاکھ 60 ہزار بدو رہتے ہیں جن میں سے آدھے غیر تسلیم شدہ دیہات میں ضروریات زندگی کے بغیر رہنے پر مجبور ہیں۔