.

فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے محصولات ادا کرنے کا اسرائیلی فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے تین ماہ سے روکے گئے محصولات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کےواجبات کی ادائی کا فیصلہ انسانی بنیادوں اور اسرائیلی مفادات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے رواں سال جنوری کے اوائل میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی عدالت انصاف ’’آئی سی سی‘‘ سے رجوع کرنے ردعمل میں فلسطینی محصولات روک لیے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تل ابیب نے انسانی ہمدردی اور صہیونی ریاست کے مفادات کے پیش نظر رام اللہ اتھارٹی کے محصولات اسے ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو درپیش موجودہ بحران کے تناظر میں ہمیں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں اپنے غیرمتزلزل عزم کا کھل کراظہار کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے واجبات ادا کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسرائیل میں سترہ مارچ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جماعت بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب قرار پائی تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم جلد ہی اپنی نئی کابینہ تشکیل دینے والے ہیں۔ ادھر دوسری جانب عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کیے جانے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو بھی آئندہ ماہ [اپریل] سے اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمات کے قیام کا حق بھی مل جائے گا۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں اسرائیلی حکومت نے رام اللہ اتھارٹی کے 106 ملین یور ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عالمی معاہدے کے تحت اسرائیل ٹیکس اور دیگر مدات میں جمع ہونے والی رقم فلسطینیوں کو ادا کرنے کا پابند ہے۔