.

عرب لیگ کی قیادت مشترکہ فوج کے قیام پر متفق

یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی مہم کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے ایک رضا کار مشترکہ فوج کے قیام سے اتفاق کیا ہے جو کسی بھی رکن کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کی صورت میں بروئے کار آسکے گی۔

مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان کے مطابق رضاکار عرب فوج کسی بھی رکن ملک کی سکیورٹی اور تحفظ کو درپیش چیلنج کی صورت میں اس کی جانب سے خصوصی درخواست کے بعد مداخلت کر سکے گی۔البتہ تنظیم کے ایک رکن ملک نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں یمن کے حوثی باغیوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر دارالحکومت صنعا اور سرکاری عمارتوں کو خالی کردیں اور اپنے ہتھیار مجاز حکام کے حوالے کردیں۔بیان میں سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن طوفان کے نام سے فضائی مہم کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

عرب لیگ کے لیڈروں نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی جانب سے سعودی عرب میں خلیج تعاون کونسل کے زیراہتمام کانفرنس کے انعقاد کی حمایت کی ہے۔جی سی سی نے قبل ازیں یمن میں جاری تنازعے کے تمام فریقوں کی میزبانی کی پیش کش کی تھی لیکن حوثیوں نے اس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

تاہم عراق نے کسی بھی رکن ملک میں فوجی مداخلت کو مسترد کردیا ہے اور بحران کے حل کے لیے مذاکرات کو بہتر حل قرار دیا ہے۔لبنان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ عرب ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے کیا جانا چاہیے۔عرب ممالک نے لیبیا میں مجاز حکومت کی سیاسی اور مالی حمایت کا اظہار کیا ہے اور وہاں قومی فوج کی حمایت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت پر اسلحے کی تجارت پر عاید پابندی ختم کرے۔بیان میں لیبیا کی حکومت کی اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدوں پر کنٹرول کے لیے حمایت پر زور دیا گیا ہے لیکن تنظیم کے ایک رکن ملک قطر نے اس تجویز کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

عرب لیگ نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام میں جاری تنازعے کا ذمے دار قراردیا ہے اور تنظیم کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی پر زوردیا ہے کہ وہ اس بحران کے سیاسی حل کے لیے جنیوا اعلامیے کی روشنی میں لائحہ عمل وضع کرنے کی غرض سے اقوام متحدہ کے سربراہ بین کی مون سے بات چیت جاری رکھیں۔

بیان میں فلسطین کے لیے اپریل سے شروع ہونے والے ایک سالہ بجٹ اور فلسطین کی مرکزی کونسل کے اسرائیل کے ساتھ سیاسی ،اقتصادی اور سکیورٹی کے تعلقات کو منقطع کرنے کے فیصلے کی حمایت کی گئی ہے تاکہ اسرائیلی حکومت پر دوطرفہ سمجھوتوں کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔