.

اتحادی حملوں کے نتیجے میں داعش مضبوط ہو گئی ہے: بشار الاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دئیے جانے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی کی زیرسربراہی شامی علاقوں میں دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے خلاف فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش میں رضاکاروں کی بھرتی تیز ہوگئی ہے۔

پچھلے سال ستمبر میں شروع ہونے والے ان فضائی حملوں کی شامی فوج کو افادیت کے بارے میں پوچھے جانے پر بشار الاسد کا کہنا تھا "بعض اوقات آپ کو مقامی سطح پر فائدہ پہنچ سکتا ہے مگر اگر عمومی طور پر داعش کو دیکھا جائے تو اصل میں داعش حملوں کے آغاز سے ہی مضبوط ہوتی جارہی ہے۔"

سال 2011ء سے اسلام پسند جنگجوئوں اور دیگر باغیوں کا مقابلہ کرنے والے بشار الاسد کا کہنا ہے کہ کچھ اندازوں کے مطابق داعش ہر ماہ شام میں 1000 ریکروٹوں کو بھرتی کررہی ہے۔

اسد کا کہنا تھا "عراق میں بھی ایساہی ہے اور وہ لیبیا میں بھی پھیل رہے ہیں جبکہ القاعدہ نواز کئی تنظیموں نے داعش سے وفاداری کا اعلان کردیا ہے۔ تو موجودہ صورتحال یہ ہے۔" واشنگٹن شام میں جاری سول جنگ کا ایسے مذاکرات پر خاتمہ چاہتا ہے کہ جس میں بشار الاسد شامل نہ ہوں مگر اس نے شام میں داعش کے جنگجوئوں کا مقابلہ کرنا اپنی اولین ترجیح رکھا ہوا تھا۔

جب انٹرویو کار نے ان سے پوچھا کہ وہ کن وجوہات کے سبب اقتدار کو چھوڑیں گے تو اسد کا کہنا تھا "جب مجھے عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ جب میں شامی اقدار اور مفادات کی نمائندگی نہیں کررہا ہوں گا۔"

شامیوں کے درمیان اپنی حمایت کو ماپنے کے طریقہ کار سے متعلق سوال کے جواب میں شامی صدر کا کہنا تھا کہ "میں اس کو ماپتا نہیں ہوں۔ میں محسوس کرتا ہوں۔ میں احساس کرتا ہوں۔ میرا شامی عوام سے رابطہ ہے۔"