.

بین کی مون کی مذاکرات کے لیے بغداد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی اور دوسرے عہدے داروں سے بات چیت کے لیے سوموار کو بغداد پہنچے ہیں۔

وہ عراقی دارالحکومت میں مختصر قیام کے دوران صدر فواد معصوم ، وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری اور پارلیمان کے اسپیکر سلیم الجبوری سے بھی ملاقات کریں گے۔عراق میں اقوام متحدہ کے مشن نے ٹویٹر پر بین کی مون کی بغداد آمد کی اطلاع دی ہے لیکن اس نے ان کی عراقی قیادت سے بات چیت کے ایجنڈے کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا ہے۔

وہ ایسے وقت میں عراق کا دورہ کررہے ہیں جب عراقی فورسز اور ان کی حامی ملیشیائیں ایران کی مدد سے شمالی شہر تکریت میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ آزما ہیں اور وہ قریباً ایک ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اس شہر میں داعش کے جنگجوؤں کو شکست سے دوچار نہیں کرسکی ہیں۔انھیں امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔

لیکن داعش کے خلاف جنگ میں بیک وقت ایران اور امریکا کے کُودنے کے بعد عراق کے اندر اور باہر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ سے عراق آئے ہیں جہاں انھوں نے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔اس کے ایجنڈے میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مہم کا معاملہ سرفہرست رہا تھا۔

توقع ہے کہ وہ منگل کو کویت جائیں گے جہاں وہ امداد دینے والے بین الاقوامی اداروں اور ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس اجلاس میں شام میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کے لیے درکار امداد کو پورا کرنے کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔