.

عراقی فوج کی تکریت میں ''شاندار'' فتح پر تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیردفاع خالد العبیدی نے شمالی شہر تکریت میں سکیورٹی فورسز کی دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں شاندار فتح کو سراہا ہے۔انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عراقی فورسز نے ایک ماہ کی لڑائی کے بعد اپنا مشن مکمل کر لیا ہے لیکن آزاد ذرائع کے مطابق ابھی تک تکریت پر عراقی فورسز کا مکمل قبضہ نہیں ہوا ہے اور وہاں خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔

قبل ازیں عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے تکریت کی آزادی اور اپنی فورسز کی فتح کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے شہر کے مرکزی حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ عراقی فوج نے عوامی یونٹوں (الحشد الشعبی) کے ساتھ مل کر داعش کے جنگجوؤں کو تکریت کے وسط سے نکال باہر کیا ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تکریت پر مکمل قبضہ ہونے تک لڑائی جاری رکھی جائے گی۔

تاہم نیویارک ٹائمز نے اپنی منگل کی اشاعت میں بتایا ہے کہ تکریت پر ابھی تک عراقی فورسز کا قبضہ نہیں ہوا ہے۔اخبار نے شہر کے متعدد مکینوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھوں نے عراقی فورسز کی فتح کی تصدیق نہیں کی ہے جبکہ بغداد میں اعلیٰ عہدے داروں نے وزیراعظم کے بیان کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں ان کی فورسز کو بڑی کامیابیاں ملی ہیں اور وہاں ابھی داعش کے خلاف لڑائی جاری ہے۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ''وہ اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے تکریت کے مرکز اور دوسرے حصوں کو آزاد کرانے کے لیے پیش قدمی کی ہے''۔صوبہ صلاح الدین کے دارالحکومت تکریت میں عراقی فورسز کی کامیابیوں کے اعلانات کے بعد عراقی فورسز اور مقامی قبائل نے مل کر ایک اور شمالی شہر کرکوک کے جنوب مغرب میں واقع بعض دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

صوبہ صلاح الدین کی کونسل کے ترجمان مروان الجابرہ نے مقامی السمیریہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''العبید اور الجبور قبائل سے تعلق رکھنے والی فورس نے کرکوک کے جنوب مغرب میں واقع علاقے الرشاد اور الفتح کے درمیان پہاڑی علاقے میں کارروائی کے دوران بے مثال کامیابی حاصل کی ہے''۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں پہاڑی کے دامن میں واقع حمرین اور دو دیہات کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔اس لڑائی میں بیس جنگجو مارے گئے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ عوامی یونٹوں اور حکومت نواز فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف تمام علاقے کی بازیابی تک کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز ،ان کی حامی شیعہ ملیشیاؤں اور مسلح سنی قبائل نے گذشتہ ایک ماہ سے تکریت کا محاصرہ کررکھا ہے۔انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی فضائی مدد بھی حاصل ہے اور امریکی طیاروں نے گذشتہ ہفتے تکریت میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی تھی جس کے بعد ہی عراقی فورسز کو شہر کے بعض علاقوں سے داعش پسپا کو کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

داعش کے سیکڑوں جنگجو ابھی تک سابق صدر صدام حسین کے اس آبائی شہر میں موجود ہیں اور وہ اپنی موت تک عراقی فورسز سے لڑنے کو تیار ہیں۔شہر کے تین علاقوں پر ابھی تک داعش کا قبضہ برقرار ہے۔ان میں شہر کے شمال میں واقع صدارتی محل بھی شامل ہے جہاں جنگجوؤں نے اپنے دفاتر قائم کررکھے ہیں۔انھوں نے جگہ جگہ بم بھی نصب کررکھے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری سکیورٹی فورسز شہر پر مکمل کنٹرول نہیں کرسکی ہیں۔