.

قطری سفیر نے مصرمیں دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کے سفیر نے ایک سال کے تعطل کے بعد مصر میں دوبارہ اپنی سفارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قطری سفیر سیف بن مقدم البوعینین نے کل منگل کو قاہرہ میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں دوبارہ شروع کیں۔ انہیں رواں سال 19 فروری کو دوحہ حکومت نے قاہرہ کے ساتھ اختلافات کے باعث واپس بلا لیا تھا۔

مصر کی’’مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی‘‘ کی جانب سے جاری ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ قطری سفیر البوعینین نے دوحہ حکومت کے وفد کے شرم الشیخ عرب سربراہ کانفرنس میں شرکت کے بعد قاہرہ میں اپنی سفارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں قطری حکومت نے قاہرہ میں متعین اپنے سفیر کو اس وقت واپس بلا لیا تھا جب لیبیا میں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ نے اکیس مصری شہریوں کو قتل کیا تو قاہرہ کی جانب سے لیبیا میں فوجی کارروائی پر قطر نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ قطری حکومت کی جانب سے مصر کی لیبیا میں فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔

قبل ازیں عرب سفارتی ذریعے نے اطلاع دی تھی کہ مصر اور قطر دونوں سفارتی تعلقات کی بحالی پر متفق ہوگئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 2013ء میں سابق مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے سفارتی تعلقات بھی توڑ دیے تھے۔ تاہم بعد ازاں قطر نے مصرسے اپنے تعلقات بحال کرلیے تھے۔ البتہ مصر کی دوحہ میں متعین سفیر کو دوبارہ نہیں بھیجا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی مصر بھی اپنا سفیر دوحہ روانہ کردے گا۔

حال ہی میں مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعاطی کا کہنا تھا کہ دوحہ اور قاہرہ میں دونوں ملکوں کے سفیروں کی واپسی کے بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی چھپانے والی بات نہیں ہے۔ جب ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو سب کو اس کا علم ہوجائے گا۔