.

حوثی ملیشیا نے دسیوں فیکٹری ملازم قتل کر ڈالے

کارروائی کا ملبہ عرب اتحادی ممالک پر ڈالنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی شدت پسندوں نے ملک کے مغربی شہر الحدیدہ میں دودھ تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں گھس کر وہاں پرکام کرنے والے دسیوں کارکنوں کو قتل کردیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حوثیوں کے حملے میں کم سے کم 25 افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق الحدیدہ شہر کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں واقع دودھ کی ایک فیکٹری پرحملے کے نتیجے میں دو درجن سے زاید افراد مارے گئے ہیں۔ فیکٹری میں داخل ہونے سے قبل حوثیوں کی جانب سے متعدد راکٹ حملے بھی کیے گئے تاکہ ہلاکتوں کا الزام اتحادی فوج پرعاید کیا جاسکے۔

الحدید کے ایک مصدقہ ذریعے نے بتایا ہے کہ دودھ فیکٹری پرحملہ حوثٰی شدت پسندوں کی جانب سے کیا گیا۔ سیکیورٹی حکام کی جانب سے کی گئی تحقیقات سےپتا چلا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے فیکٹری کو زمین میں نصب بم سے اڑایا ہے۔ اس پر فضائی بمباری نہیں کی گئی ہے۔ اس انکشاف کے بعد حوثٰیوں کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ رپورٹ کے نتائج کو افشاء کرنے والوں کو قتل کردیا جائے گا۔

تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فیکٹری پر حوثی شدت پسندوں نے راکٹ حملے بھی کیے ہیں۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب الحدیدہ شہر میں فوج کے بریگیڈ 65 کے فوجی اڈے پراتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کی تھی۔ حوثیوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ فیکٹری پر بمباری بھی سعودی عرب کی قیادت میں ہونے والے فضائی حملوں کے دوران کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل لحج شہر میں ایک سیمنٹ فیکٹری پر بھی حوثی شدت پسندوں نے حملہ کرکے وہاں پر کام کرنے والے ملازمین کی بڑی تعداد کو قتل کردیا تھا۔ حوثٰیوں نے سیمنٹ فیکٹری پرحملے کو بھی اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں کی کارروائی قرار دینے کی ناکام کوشش کی تھئ۔

ادھردارالحکومت صنعاء، صعدہ میں مران اور رزاح کےمقامات پر اور الحدیدہ اور مآرب میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر تازہ حملے بھی کیے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسند اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی عدن کے مرکزی ہوائی اڈے سے فرار ہوگئے ہیں۔