.

شامیوں کے خلاف 80 فیصد روسی ساختہ اسلحے کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کو اسلحہ اور جنگی سازو سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ چار سال سے شام میں جاری بغاوت کے دوران شامی فوج نے اپنے شہریوں کے قتل عام کے لیے 80 فیصد روسی ساختہ اسلحہ استعمال کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی نے ماسکو کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ دمشق کو اسلحہ فراہمی عالمی قوانین کی رو سے کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی دمشق اور ماسکو کے درمیان اسلحہ کے حصول پر کوئی عالمی پابندی عاید ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان دیمتری بیسکوف کا کہنا ہے کہ روس شام کا دیرینہ اتحادی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اسلحہ کے لین دین سمیت تمام شعبوں میں یکساں تعلقات قائم ہیں۔ روس شام کو اسلحہ کی فراہمی میں کسی پابندی کو قبول نہیں کرتا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے کہا تھا کہ ان کا ملک کھل کر شام کی فوجی امداد جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمشق کے ساتھ فوج تعاون کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم شام کی فوجی امداد کر رہے ہیں۔

تاہم ساتھ ہی ساتھ ماسکو وزارت خارجہ نےاس تاثر کی نفی کی ہے کہ ان کے ملک کی طرف سے فراہم کردہ اسلحہ شام میں عام شہریوں کے خلاف استعامل کیا جا رہا ہے جوکہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نےملبہ مغربی ذرائع ابلاغ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ شام کے تنازع کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روس اور شام کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے موجود ہیں۔ ہم انہی معاہدوں کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ عسکری میدان میں تعاون کرتے رہے ہیں تاہم پچھلے دو سال کے دوران شام کو اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

حالیہ دو برسوں میں شام کو اسلحہ کی فراہمی کی روسی تردید کی شام نے نفی کردی ہے۔ شامی صدر بشارلاسد کا کہنا ہے کہ ہمیں جب بھی دفاعی سامان کی ضرورت پڑی روس نے ہماری مدد کی ہے۔ ہمارے درمیان اس وقت تک دفاعی تعاون جاری ہے اور آنے والے اوقات میں بھی دفاعی تعاون جاری رہے گا۔