اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کی تربیت

مفرور فوجی نے صہیونی فوج کی شدت پسندی کا بھانڈہ پھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث صہیونی فوجیوں کی سفاکیت کی ان گنت مثالیں موجود ہیں مگر پہلی باراسرائیل کے ایک منحرف فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے فوجی اہلکاروں کو فلسطینیوں کے قتل کے لیے نشانہ بازی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔

اسرائیل کےعبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے سابق فوجی اہلکار یارون کابلان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس نے دو سال تک فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد ’ضمیرکے ملامت‘ کرنے پر فوجی سروس چھوڑ دی تھی۔

کابلان کا کہنا ہے کہ "جب میں ٹریننگ سینٹر پہنچا تومیں نے دیکھا کہ وہاں [فلسطینیوں کے خلاف] انتہائی تشدد آمیز طریقے استعمال کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے گہرا صدمہ پہنچا۔ ہمیں جب بھی عسکری تربیت دی جاتی تواس میں فلسطینیوں کو بندوق سے نشانہ بنا کر مارنے کا طریقہ ضرورسکھایا جاتا۔ بعض اوقات ہمیں تربیت کے دوران بھی بے گناہ فلسطینی قتل کرائے جاتے۔ ہم خود کواپنے ہی ہاتھوں قتل ہونے والوں کے درمیان پاتے۔ کبھی ہم محمد کو نشانہ بناتے اور کبھی ہم اپنا نشانہ پکا کرنے کے لیے احمد جان کو سے مارڈالتے."

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یارون کابلان نے ملٹری کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دو سال تک فوج کی ایک جنگی یونٹ میں خدمات انجام دیں، لیکن یہ سلسلہ صرف دو سال تک جاری رہ سکا۔ اس کے بعد اس نے فوجی سروس ترک کردی تھی۔

اس کا مزید کہنا ہے کہ ’’میں نے فوجی سسٹم کے اندرونی ڈھانچے میں تبدیلی کی کوشش کی اور سوچا کہ میں فوجی افسران کا کورس کرلوں لیکن مجھے اندازہ ہوا کہ میں سسٹم میں ’’مثالی تبدیلی‘‘ نہیں لا سکتا‘‘۔

عبرانی اخبار کے مطابق یارون کابلان حالیہ اسرائیلی انتخابات میں رخصت پرتھا، اس کےبعد اس نے فوجی سروس آگے بڑھانے سے انکار کردیا۔ اس نے آج سوموار کے روز تل ابیب میں مفرور فوجیوں یحیئیل نحمانی اور ایوی ڈارچنر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالے گئے ایک احتجاجی جلوس میں بھی شرکت کی جنہیں فوج سے فرار کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق یارون کابلان عیدالفصح کی تقریبات کےبعد فوجی مرکزمیں اپنی گرفتاری پیش کرنے کے لیے جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’میں نے جو قدم اٹھایا ہےاس کے نتائج کے بارے میں مجھے بہ خوبی علم ہے۔ میں نے جو بھی کیا اپنی دانست میں بالکل صحیح کیا ہے۔ میرے لیے میرے ضمیر کا اطمینان ہی کافی ہے۔ میں نے فوج میں جو وقت گذارا وہ مجھ پر ایک بوجھ تھا۔ اگر میں فوج میں مزید رہتا تو خود کو عذاب میں رکھتا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں