.

دمشق: یرموک کیمپ میں جھڑپیں، مکینوں کا فرار

کیمپ پر چڑھائی پرحماس کی داعش سے انتقام لینے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ الیرموک پر اسدی فوج کی گولہ باری اور داعش اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کے بعد سیکڑوں مکین وہاں سے محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔

دمشق کے جنوب میں واقع علاقے سے رہنے والے حاتم الدمشقی نامی ایک کارکن نے بتایا ہے کہ یرموک کیمپ میں اتوار کو آدھی رات کے وقت لڑائی چھڑ جانے کے بعد مکینوں نے بھاگنا شروع کردیا تھا۔کیمپ پر شامی فوج نے بھی شدید گولہ باری کی ہے اور فضائی حملے کیے ہیں۔

حاتم الدمشقی اور برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ کیمپ سے راہ فرار اختیار کرنے والے دمشق کے جنوب میں واقع نواحی علاقوں یلدہ ،بابلہ ،بیت صحم کی جانب چلے گئے ہیں اور یہ علاقے باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

انھوں نے شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے بتایا ہے کہ کیمپ سے قریباً دو ہزار افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور وہ اس وقت مذکورہ علاقوں میں اسکولوں یا پھر خالی مکانوں میں عارضی طور پر مقیم ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ بدھ کو یرموک کیمپ پر دھاوا بولا تھا۔فلسطینی حکام اور شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے مل کر فلسطینی کیمپ پر حملہ کیا تھا حالانکہ ان دونوں گروپوں کے درمیان ماضی میں شام کے دوسرے علاقوں میں خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں لیکن یہاں وہ ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق یرموک کیمپ میں لڑائی چھڑنے کے بعد سے چھبیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاہم النصرۃ محاذ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ لڑائی میں شریک نہیں ہے اور اس نے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کررکھا ہے۔اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ النصرۃ نے اپنے دفاتر کھول دیے ہیں اور جو لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہیں،انھیں خوش آمدید کہا جارہا ہے اور پناہ دی جاری ہے۔

فلسطینی ردعمل

درایں اثناء فلسطینی صدر محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یرموک کے مکینوں کو شام میں جاری خانہ جنگی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔وہاں سرکاری فوج اور مختلف باغی گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں اور اس کی قیمت ہم چُکا رہے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ ''دمشق میں موجود تنظیم آزادی فلسطین نے اس المیے سے نمٹنے کے لیے ایک سیل قائم کردیا ہے۔ہم وہاں اپنے لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ مسئلے کا کوئی حل تلاش کیا جاسکے اور ہم اپنے لوگوں کا تحفظ کرسکیں''۔

ادھر غزہ میں حماس کے سیکڑوں حامیوں نے اتوار کی شام جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں داعش کے یرموک کیمپ پر قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔حماس کے مقامی لیڈر محمد ابو عسکر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''فلسطینی خون سستا نہیں ہے''۔انھوں نے داعش سے یرموک کیمپ پر حملے کا انتقام لینے کی دھمکی دی ہے۔

دمشق میں قائم پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین جنرل کمان کے ترجمان انور رجا نے کہا ہے کہ اسد نواز متعدد دھڑے کیمپ کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ داعش کے حملے کے بعد سے ایک سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں یا داعش کے جنگجوؤں نے انھیں اغوا کر لیا ہے۔ترجمان کے بہ قول داعش کا کیمپ کے نصف حصے پر کنٹرول ہوچکا ہے اور اب ہماری ترجیح وہاں سے شہریوں کا انخلاء ہے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت کیمپ میں قریباً اٹھارہ ہزار افراد مقیم ہیں اور ان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔شامی فورسز نے گذشتہ دوسال سے اس کیمپ کا محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے مکین بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔

شام میں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز کے وقت قریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی اس کیمپ میں مکین تھے لیکن وہ اسد نواز اور ان کے مخالف دھڑوں کے درمیان 2012ء میں خونریز جھڑپوں کے بعد لبنان میں قائم فلسطینی مہاجر کیمپوں یا دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے تھے اور صرف غریب غرباء ہی اس کیمپ میں رہ گئے تھے۔