.

شام: 300 کرد مردوں کی اغوا کے بعد رہائی

النصرۃ محاذ نے ایک روز زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے وابستہ باغی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے شمال مغربی صوبے ادلب میں قریباً تین سو کرد مردوں کو اغوا کے ایک روز بعد رہا کرا دیا ہے۔

یورپ میں کرد جمہوری پارٹی (پی وائی ڈی) کے ترجمان نواف خلیل نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلامی جنگجو گروپ نے اغوا کیے گئے مردوں کو چھوڑ دیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی ان کردوں کی رہائی کی اطلاع دی ہے۔تاہم اس کا کہنا ہے کہ قریباً دو سو افراد کو گذشتہ دو روز سے مختلف چیک پوائنٹس پر زیر حراست رکھا گیا تھا۔

قبل ازیں نواف خلیل اور کوبانی سے تعلق رکھنے والے ایک اور کرد عہدے دار ادریس نسان نے صحافیوں کو سوموار کو بتایا تھا کہ ان افراد کو اتوار کی رات اغوا کرلیا گیا تھا۔اس وقت وہ کردوں کے زیر قبضہ قصبے عفرین سے شمالی شہر حلب اور دارالحکومت دمشق جانے کے لیے بسوں پر سفر کررہے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ النصرۃ محاذ کے جنگجو خواتین اور بچوں کو چھوڑ گئے تھے لیکن مردوں اور نوجوانوں کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے تھے۔ادریس نسان کے بہ قول انھوں نے انھیں حلب سے بیس کلومیٹر مغرب میں واقع گاؤں تقاد سے پکڑا تھا اور پھر انھیں صوبہ ادلب میں واقع قصبے الدانا منتقل کردیا تھا۔

النصرۃ محاذ نے ان کرد افراد کو اغوا کرنے کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور شام کے سرکاری میڈیا نے بھی اس واقعہ کو رپورٹ نہیں کیا تھا۔شامی آبزرویٹری نے کرد مردوں کے اغوا کی تصدیق کی تھی لیکن اس کا کہنا تھا ان کی حتمی تعداد کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران کرد ملیشیا اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان مختلف محاذوں پر متعدد مرتبہ خونریز لڑائیاں ہوچکی ہیں۔ماضی قریب میں داعش اور کردوں کے درمیان شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی میں خونریز لڑائی ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں داعش کو وہاں سے پسپا ہونا پڑا تھا۔شام کے بعض سخت گیر اسلامی جنگجو گروپ کردوں کو گم راہ خیال کرتے ہیں۔