.

محصولات روکنے پر اسرائیل کے خلاف مقدمہ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے فلسطین کے محصولات اور واجب الاداء تمام رقوم فوری طور پر ادا نہ کیں تو وہ صہیونی ریاست کے خلاف بین الاقوامی فوج داری عدالت میں جائیں گے۔

صدر محمود عباس نے رام اللہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو اسرائیل کے تمام واجبات فوری ادا کرتے ہیں لیکن اسرائیل نے اعلان کے باوجود ہمارے ایک تہائی واجبات کیوں روک رکھے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے مارچ کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رواں سال کے شروع سے روکے گئے تمام واجبات ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ واجبات رواں سال جنوری میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کے فیصلے کے ردعمل میں روک لیے گئے تھے۔ دسمبر 2014ء اور فروری 2015ء کے دوران تین ماہ میں اسرائیل کو فلسطینی اتھارٹی کے قریبات 380 ملین یورو ادا کرنا تھے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب فلسطینی محصولات کی ادائی کے جواب میں رام اللہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ہم بغیرچھان بین کیے بغیررقوم وصول نہیں کریں گے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے اپنی تقریر میں کہا کہ عالمی فوج داری عدالت میں اسرائیل کے جرائم کی تحقیقات کے لیے رجوع کا فیصلہ حتمی ہے۔ ہم عالمی عدالت جائیں گے۔ پہلے تو غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کریں گے۔ اس کے بعد فلسطین میں اسرائیل کی غیر قانونی یہودی آباد کاری کی روک تھام کے لیے درخواست دی جائے گی۔ بین الاقوامی فوج داری عدالت میں جانے کے لیے اب ہم صلاح مشورہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنا پورا حق وصول کریں گے۔ اگر ہم اسرائیل کے واجبات پورے ادا کررہے ہیں تو اسے بھی ہمارےتمام واجبات غیر مشروط طورپر ادا کرنا ہوں گے ورنہ ہم عالمی فوج داری عدالت میں جائیں گے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ روکے گئے واجبات کا کچھ حصہ فلسطینی اتھارٹی کو ادا کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے امریکا کو بھی مطلع کردیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی باقی ماندہ رقوم بھی مناسب وقت میں ادا کردی جائیں گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو ماہانہ 110 ملین یورو کی رقم ادا کرنے کا پابند ہے۔ ان میں سے دو تہائی رقم ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی کی جاتی ہے جسے ایک لاکھ 80 ہزار فلسطینی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔

یکم اپریل سے فلسطینی اتھارٹی عالمی عدالت انصاف کی بھی باضابطہ رکن بن چکی ہے۔ اس کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔