.

داعش لبنان کے فلسطینی مہاجر کیمپ میں آ دھمکی؟

انتہا پسند گروپ دمشق کے یرموک مہاجر کیمپ میں تباہی پھیلا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ نے جنوبی لبنان کے صیدا شہر میں قائم فلسطینی پناہ گزینوں کے عین الحلوہ کیمپ میں اپنے پرچم لہرا دیے ہیں۔ کیمپ میں داعش کے خود ساختہ سربراہ ابوبکر البغدادی اور القاعدہ کے بانی مقتول اسامہ بن لادن کی قد آدم تصاویر بھی آویزاں کی گئی ہیں جو کئی میٹر دور سے دکھائی دیتی ہیں۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ صیدا میں فلسطینی پناہ گزینوں کے مرکز میں داعش کے پرچم لہرانے کا مظاہرہ مسلم یوتھ سوسائٹی نامی گروپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اس گروپ میں 46 افراد شامل ہیں جن میں سے بعض شام میں جاری خانہ جنگی میں حصہ لینے کے لیے دمشق جا چکے ہیں۔

تاہم پناہ گزین کیمپ میں موجود فلسطینی نیشنل سیکیورٹی چیف میجر جنرل صبحی ابو عرب کا کہنا ہے کہ پناہ گزین کیمپ سے شدت پسندوں میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی جتنی تعداد لبنانی سیکیورٹی حکام کی جانب سے بتائی گئی ہے وہ زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عین الحلوہ پناہ گزین کیمپ کوئی ایک مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 55 ہزار فلسطینی پناہ گزین آباد ہیں۔

کیمپ میں قہوہ فروش کرنے والے مہاجر فادی کا کہنا ہے کہ اس کے کئی ساتھی غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر شام میں جاری خانہ جنگی میں شامل ہو چکے ہیں۔ کیمپ کے مکینوں کو خدشہ ہے ہے کہ پناہ گزینوں کی موجودہ ابتر صورت حال ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے اور عین الحلوہ کے حالات بھی شمالی لبنان میں قائم نہر البارد کیمپ میں سنہ 2007ء کے واقعات کی طرح بگڑ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2007ء میں فتح الاسلام نامی ایک شدت پسند گروپ اور لبنانی فوج کے درمیان محاذ آرائی کے نتیجے میں دسیوں فلسطینی پناہ گزین مارے گئے تھے۔