یمن سے متعلق خلیجی قرارداد سلامتی کونسل میں پیش

عالمی ادارے میں قرارداد پر رائے شماری کل جمعہ کو ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خلیجی ممالک کی جانب سے یمن کے استحکام کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔ امکان ہے کہ قرارداد پر رائے شماری کل جمعہ کے روز ہو گی۔

العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق نیویارک میں سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی قرارداد میں ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے، یمن سیاسی استحکام، آئینی حکومت کی بحالی اور ملکی وحدت و خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

'العربیہ' کو ملنے والی قرارداد کے متن کی کاپی میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک یمن کی داخلی سلامتی، خود مختاری اور سیاسی استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ تمام خلیجی ممالک یمن میں جاری موجودہ سیاسی بحران کے جلد خاتمے اور تمام نمائندہ قومی
دھاروں پر مشتمل حکومت کے قیام کے حامی ہیں۔

قرارداد میں یمن میں القاعدہ کے بڑھتے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے مداخلت کریں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یمن میں پائیدار اور مضبوط حکومت نہ ہونے کی وجہ سے القاعدہ جیسے شدت پسندوں گروپوں کو پیش قدمی کا موقع ملا ہے۔

خلیجی ممالک نے ایک بار پھر صدر عبد ربہ منصور ھادی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حکومت کی بحالی کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ یمن میں آئینی حکومت کا خاتمہ موجودہ تمام مسائل کی بنیاد ہے جب تک آئینی حکومت بحال نہیں ہو جاتی اس وقت تک امن ومان کا قیام ممکن نہیں۔

قرارداد میں یمن کے اندر جاری انسانی بحران پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مسئلے کو سیاسی انداز میں حل نہ کیے جانے سے انسانی بحران مزید گھمبیر صورت اختیار کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کی پیش کردہ قرارداد میں حوثیوں کی جانب سے یک طرفہ طور پر کیے گئے فیصلوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں