داعش نے 50 شامیوں کو اغوا کررکھا ہے: مانیٹرنگ گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] سے تعلق رکھنے والے جنگجوئوں نے وسطی شام میں ایک گائوں پر حملے کے بعد کم ازکم پچاس شامی شہریوں کو جن میں آدھی سے زیادہ خواتین شامل ہیں، اغوا کر لیا ہے۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ 31 مارچ کو شام کے حماہ صوبے کے مبوجہ گائوں سے ان شامی شہریوں کو انتہاپسند تنظیم کے جنگجوئوں نے اغوا کر لیا تھا۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ان شہریوں کی اغوا کی خبر کو شروع میں مذاکرات جاری ہونے کی وجہ سے صیغہ راز میں رکھا گیا تھا مگر بعد میں یہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔

ان مغوی شہریوں میں سے چھ خواتین سمیت 10 افراد شیعہ مسلمانوں کے اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بقایا 40 افراد سنی مسلمان ہیں جن میں سے کم ازکم 15 افراد شامل ہیں۔

عبدالرحمان نے عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے "اس بات کے خدشات سامنے آئے ہیں کہ خواتین کو خادمائوں کے طور پر رکھا گیا ہے۔"

مبوجہ حماہ کے مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس کی آبادی میں سنی، اسماعیلی اور علاوی فرقوں پر مشتمل ہے۔ شامی صدر بشار الاسد کا تعلق بھی علاوی فرقے سے ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق 31 مارچ کو داعش نے مبوجہ میں دو بچوں سمیت کم ازکم 37 شہریوں کو زندہ جلا کر، سر کاٹ کر اور فائرنگ کر کے مار ڈالا تھا۔

اس سے پہلے جمعہ کے روز علاوی آبادی کےعلاقے میں ایک کار بم حملہ کیا گیا۔ اس حملے کے نیتجے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ کم ازکم 10 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ آبزرویٹری نے حملے کے ذمہ دار کا نام نہیں لیا تھا مگر شامی سرکاری ٹی وی نے اس حملے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا تھا۔

رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ علاقہ حکومت کے زیر انتظام ہے اور اس میں حکومت نواز ملیشیائوں کی مضبوط موجودگی ہے۔ علاوی آبادی والے علاقوں کو بہت دیر سے شدت پسند عناصر کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس میں ایک سکول پر وحشیانہ خودکش حملہ شامل ہے جس میں 47 بچوں سمیت 54 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
=
شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے بعد سے اب تک دو لاکھ 15 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ملک کی آبادی کا تقریبا آدھا حصہ بے گھر ہوچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں