پی ایل او یرموک کیمپ میں شامی فوج کے حملے کی مخالف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک میں شامی فوجی کے حملے کی مخالفت کردی ہے؛۔اس کیمپ پر سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران خونریز جھڑپوں کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

پی ایل او نے غرب اردن کے شہر رام اللہ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم (کیمپ میں) کسی فوجی مہم جوئی کے حق میں نہیں، خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے لوگوں کا مزید خون نہ بہایا جائے،مزید تباہی سے بچا جائے اور کیمپ کے مکینوں کو بے گھر کرنے سے گریز کیا جائے''۔

قبل ازیں پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن احمد مجدلانی نے دمشق کے د؛ورے کے موقع پر کیمپ سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے اور اس پر دوبارہ کنٹرول کے لیے شامی فوج کی کارروائی کی مکمل حمایت کی تھی۔پی ایل او کی قیادت نے انھیں صورت حال کے جائزے کے لیے دمشق بھیجا تھا لیکن اب پی ایل او نے کیمپ میں فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت کردی ہے۔

احمد مجدلانی نے داعش پر فلسطینیوں کی قسمت سے کھیلنے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ سخت گیر جنگجوؤں نے کیمپ کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کی توسیع کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ شامی فوجی نے مقامی فلسطینی گروپوں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے اور انھوں نے کیمپ کا 35 فی صد حصہ بازیاب کرا لیا ہے۔ان کے اس بیان سے قبل برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے کیمپ کے نوے فی صد حصے پر داعش کے قبضے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے بشارالاسد کی مخالف شامی اور فلسطینی ملیشیا اکناف بیت المقدس کے جنگجوؤں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق شامی فضائیہ کے لڑاکا طیارے داعش کے جنگجوؤں کے کیمپ میں موجود ٹھکانوں پر روزانہ ہی بمباری کررہے ہیں۔

پی ایل او کے رہ نما نے کیمپ پر داعش کا قبضہ ختم کرانے کے لیے شامی حکومت کے فوجی طاقت استعمال کرنے کے موقف کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ ''داعش کے جنگجوؤں نے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے باقی تمام آپشنز کو ختم کردیا ہے اور انھوں نے جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے،اس کے بعد سکیورٹی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا ہے''۔

اقوام متحدہ نے کیمپ میں مقیم شامی اور فلسطینی شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے کہا تھا کہ کیمپ کے مکینوں کو اس وقت دو دھاری تلوار کا سامنا ہے۔وہاں ایک طرف مسلح جنگجو گروپ ہیں اور دوسری جانب سرکاری فوج ہے اور وہ موت کا کیمپ بنتا جارہا ہے''۔

اںھوں نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''کیمپ میں طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے اور جو لوگ وہاں جنگی جرائم میں ملوث ہیں،ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔ہم خاموش تماشائی بن کر قتل عام کو رونما ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے''۔

احمد مجدلانی کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت کیمپ میں قریباً ساڑھے سترہ ہزار افراد مقیم ہیں اور ان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔شامی فورسز نے گذشتہ دوسال سے اس کیمپ کا محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے مکین بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔

شام میں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز کے وقت قریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی اور شامی اس کیمپ میں مکین تھے لیکن وہ اسد نواز فورسز اور ان کے مخالف دھڑوں کے درمیان 2012ء میں خونریز جھڑپوں کے بعد لبنان میں قائم فلسطینی مہاجر کیمپوں یا دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے تھے اور صرف غریب غرباء ہی اس کیمپ میں رہ گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں