بیت المقدس کی یہودی کالونی میں عرب شہریوں کو بقاء کا چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قائم یہودی کالونیوں نے فلسطینی عوام کی زندگی تواجیرن بنا رکھی ہے مگربیت المقدس کی ایک یہودی کالونی میں پہلے سے موجود عرب شہریوں کو بھی اپنی بقاء کا سنگین چیلنج درپیش ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بیت المقدس کی یہودی کالونی کے بارے میں اپنی ریک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ1967ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بیت المقدس پرغاصبانہ قبضے کے بعد شہرمیں ایک بڑی یہودی بستی قائم کی گئی۔ یہ بستی شمال مشرقی بیت المقدس کے ’’بیت اکسا‘‘ کے مقام پر قائم کی گئی، جہاں کئی عرب خاندان پہلے سے آباد تھے۔ انہی میں ابو حسن محمود لقیانہ نامی عرب شہری کا مکان بھی شامل ہے جو پچھلے 70 سال سے اس مقام پر موجود ہے۔

اگرچہ اسرائیلی انتظامیہ نے یہاں پریہودی کالونی سنہ 1973ء میں قائم کی۔ کالونی کےقیام کے بعد وہاں پر پہلے سے آباد فلسطینی شہریوں پرصہیونی انتظامیہ کی طرف سے دبائو ڈالا گیا کہ وہ یا تو رضاکارانہ طورپر اپنے مکانات اور املاک اسرائیلی حکام کے حوالے کردیں یا کم سے کم کرائے پر دے کرخود وہاں سے نکل جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے علم میں لائے بغیر اسرائیلی بلدیہ نے فلسطینیوں کی اراضی کے کاغذات میں جعل سازی کرتےہوئے خفیہ طورپر اراضی پرقبضہ کیا جانے لگا۔

ابو حسن اور اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ وہاں پر اس وقت سے رہ رہے ہیں جب آس پاس زمین ہموار بھی نہیں تھی بلکہ ٹیلے تھے۔ ابھی شہر میں بجلی کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہم اس وقت مکان بناتے اور ان میں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ ابو حسن کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ میں پیدل چل کر کئی سو میٹردور سے ایک کنوئیں سے پانی بھرکر لاتی۔ میرے بچے اور پوتے ، پوتیاں اور نواسے نواسیاں سب یہیں پر پیدا ہوئے۔ اب ہم سے کہا جا رہا ہے کہ یہ اراضی اور مکان ہمارے نہیں، ہم یہاں سے نکل جائیں۔ یہودی ہمارے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ ہم نے کبھی انہیں تکلیف نہیں پہنچائی۔ آج ہمیں ہمارے ہی گھروں سے نکالنے کی سازشیں تیاری کی جا رہی ہیں۔ ہم کہاں جائیں؟۔

اس کا کہنا ہے کہ ہمارے آبائو اجداد کی سرزمین پر اس وقت 50 ہزار یہودیوں کو آباد کیا جا چکا ہے۔ یہودیوں کےقبضے میں جتنی زمین ہے وہ ہماری ذاتی ہے جسے جعلی ناملوں کے ساتھ یہودیوں کو الاٹ کیا گیا۔

اسی بستی میں مقیم ایک فلسطینی ڈاکٹر لوئی کسوانی کا کہنا ہے کہ بہت پہلے ہم نے اس جگہ زمین کا ایک قطعہ خرید کیا۔ اس وقت یہاں ’’راموت‘‘ کالونی کا دور دور تک کوئی وجود نہیں تھا۔ جب سے یہاں یہودی کالونی بسائی گئی اس کے بعد ہمیں لالچ، دھونس اور دبائو کے ذریعے مکان اور زمین سب کچھ چھوڑ کر نکل جانے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ 1990ء میں اسرائیلی عدالتوں میں ہمارے خلاف زمینیں خالی کرانے کے لیے مقدمات شروع کرائے گئے۔ ہم نے اپنی بساط کے مطابق دو وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔ وکلاء اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں اپنی اراضی 49 سالہ لیز پراسرائیلی انتظامیہ کے حوالے کردینی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں