داعش کا الرمادی میں تین دیہات پر قبضہ،عراقیوں کا فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی کے تین دیہات پر دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد وہاں سے مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی جانب جارہے ہیں۔

الانبار کے گورنر کے ایک مشیر نے عراقی سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک سے فوری طور پر داعش کے جنگجوؤں پر فضائی حملوں اور علاقے میں مزید فوجی کمک بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عزیزخالف الترموز نے مقامی السمیریہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''عراقی فوج ،پولیس اور قبائلی جنگجوؤں پر مشتمل فورسز کی الرمادی سے مشرق میں واقع تین دیہات البوغنیم ،البو سودہ اور البو محال میں شدید لڑائی ہورہی ہے۔داعش کو شکست دینے کے لیے ہماری سکیورٹی اور قبائلی فورسز کو مزید فوجی امداد کی ضرورت ہے''۔

علاقے کے مکینوں نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کو علی الصباح الرمادی کے مشرق میں واقع تین دیہات پر حملہ کیا تھا اور انھوں نے سجاریہ ،البو غنیم اور صوفیہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ان تینوں دیہات پر پہلے سرکاری سکیورٹی فورسز کا کنٹرول تھا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ اب الرمادی کے مشرقی حصے میں داعش کے جنگجوؤں اور عراقی فورسز کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔یہ جگہ مقامی حکومت کی عمارات سے صرف دو کلومیٹر دور واقع ہے۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا ہے کہ صوفیہ میں جنگجوؤں نے ایک پولیس اسٹیشن پر بم حملہ کیا ہے اور ایک پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے اسی ماہ شمالی شہر تکریت میں عراقی فورسز سے شکست بعد الرمادی میں یہ نیا حملہ کیا ہے۔عراقی فورسز نے کئی ہفتے کی لڑائی کے بعد داعش کے جنگجوؤں کو سابق مصلوب صدر صدام حسین کے آبائی شہر سے نکال باہر کیا تھا۔عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے تکریت پر قبضے کو داعش کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قراردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں