.

داعش ابھی بھی خطرناک تنظیم ہے: حیدر عبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] ابھی تک مشکل دشمن کے طور پر ثابت ہورہی ہے۔ انہوں نے یہ بیان اس موقع پر جاری کیا ہے جب وہ واشنگٹن کے دورے پر ہیں تاکہ بیجی اور انبار کے صوبوں میں موجود آئل ریفائنریوں پر داعش کے حملوں کے جواب میں نئی منصوبہ بندی کی جاسکے۔

حیدر العبادی نے امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عراق میں امریکی سربراہی میں داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کے بعد انتہاپسند گروپ کی ملی جلی سی تصویر پیش کی ہے۔ امریکا کا اندازہ ہے کہ داعش اپنے زیر تسلط علاقے کا ایک چوتھائی حصہ کھو چکی ہے اور خود عبادی نے تکریت کی فتح کو ایک بڑی فتح قرار دیا تھا۔

داعش کی تکریت میں شکست کو اس مہم میں ایک اہم مقام کے طور پر دیکھنے کے سوال کے جواب میں عبادی کا کہنا تھا کہ داعش اب شکست کے راستے پر چل رہی ہے مگر عراقی فورسز کو ابھی بھی مزاحمت کا سامنا ہے اور داعش بہت تیزی سے نقل وحرکت کرتی ہے۔

"یہ نظریاتی لوگ ہیں اور ان کو ہم نے دیوار کے ساتھ لگا رکھا ہے۔ ہمیں اس کے باوجود بہت شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔"

عراقی حکام کا ماننا ہے داعش کی صفوں میں غیر ملکی جنگجوئوں کی شرکت کا سلسلہ پچھلے کچھ مہینوں کے درمیان بہت بڑھ چکا ہے۔ عبادی کا ماننا ہے کہ یہ عمل اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ داعش میں عراقیوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔

عبادی نے اسی مہینے کے دوران انبار کو داعش سے بچانے کے لئے ایک نئی مہم کا اعلان کیا تھا تاکہ تکریت کی فتح کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہم کو آگے بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے واشنگٹن میں رپورٹرز کو بتایا کہ بیجی بھی اہمیت کا حامل شہر ہے۔

"ہم بیجی اور انبار دونوں کی حفاظت کے لئے ایک ساتھ مہم شروع کررہے ہیں۔"

انتہاپسند تنظیم داعش نے انبار کے ساتھ ساتھ بیجی پر بھی دوبارہ حملہ کردیا ہے اور کچھ ہی دن قبل انہوں نے عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے سیکیورٹی حصار پر بم حملہ کیا تھا۔

جب عبادی سے سنی قبائل کو مسلح کرنے کی کوششوں سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تقریبا 5000 سنی جنگجوئوں کے پاس ہتھیار موجود ہیں مگر انہوں نے بھاری ہتھیاروں کا مطالبہ کیا ہے جو کہ بغداد کے پاس موجود نہیں ہیں۔

عبادی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر اور داعش کے گڑھ موصل کو آزاد کروانے کے لئے بڑی لڑائی ابھی کئی ماہ دور ہے اور رمضان کے بعد ہی کہیں شروع ہوگی۔