.

بیجی ریفائنری کو داعش سے کوئی خطرہ نہیں:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں سے عراق کی سب سے بڑی آئیل ریفائنری کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے تین روز پہلے بیجی میں آئیل ریفائنری پر تباہ کن حملہ کیا تھا اور وہ اس کے داخلی دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔اس کے باوجود جنرل ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ اس وقت ریفائںری کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن ہم نے اس کی فضائی نگرانی میں اضافہ کردیا ہے اور داعش کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کیے جارہے ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے بدھ اور جمعرات کو بیجی اور اس کے نواحی علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر آٹھ فضائی حملے کیے ہیں۔امریکی جنرل سے جب عراق کے مغربی شہر الرمادی پر داعش کے حملے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ بیجی تزویراتی اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔میرے خیال میں الرمادی پر ان کا قبضہ نہیں ہوگا لیکن اگر ان کا قبضہ ہوبھی جاتا ہے تو یہ ان کے خلاف مہم کا اختتام نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ الرمادی میں لڑائی سے انسانی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے اور لوگ بغداد کا رُخ کررہے ہیں۔تاہم بیجی عراق کے تیل کے انفرااسٹرکچر کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے اور اتحادی فوج نے اس پر اپنی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔

جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ اگر ایک مرتبہ عراقیوں کا بیجی پر مکمل کنٹرول ہوجاتا ہے تو پھر وہ ملک کے شمال اور جنوب میں تیل کے اپنے تمام انفرااسٹرکچر پر کنٹرول حاصل کرلیں گے اور اس طرح داعش کی تیل کی فروخت سے آمدن حاصل کرنے کی صلاحیت محدود ہوجائے گی۔

قبل ازیں عراقی حکام نے بدھ کو یہ تسلیم کیا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے ریفائنری کی بعض عمارات اور شاہراہوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ ایندھن کے ٹینکوں میں چھپ گئے ہیں جس کی وجہ سے عراقی فورسز کو ان کے خلاف جوابی کارروائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے اسی روز مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی سے ملحقہ تین دیہات پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد وہاں سے مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی جانب جارہے ہیں۔داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کو علی الصباح الرمادی کے مشرق میں واقع تین دیہات پر سجاریہ ،البو غنیم اور صوفیہ پر حملہ کیا تھا۔ان تینوں دیہات پر پہلے عراقی فورسز کا کنٹرول تھا۔