.

یورپی وزراء کا یہودی بستیوں کی مصنوعات کو لیبل لگانے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے سولہ وزرائے خارجہ نے خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی پر زوردیا ہے کہ وہ غرب اردن میں قائم اسرائیل کی یہودی بستیوں کی مصنوعات کو خاص لیبل لگانے کے لیے قواعد وضوابط وضع کریں۔

یورپی یونین کے بعض ممالک نے پہلے ہی دکانوں کے لیے رہ نما اصول وضع کررکھے ہیں تاکہ وہاں آنے والے گاہک یہ دیکھ سکیں کہ وہ یہودی بستیوں کی بنی ہوئی اشیاء تو خرید نہیں کررہے ہیں اور وہ صہیونی ریاست کی مصنوعہ ہیں۔یورپی یونین دریائے اردن کے مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

جبکہ اسرائیل یورپی یونین کے اس موقف کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے اور وہ یہودی بستیوں کی مصنوعہ اشیاء کو خصوصی لیبل لگانے کا بھی مخالف ہے۔واضح رہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک گذشتہ کئی سال سے یہودی بستیوں کی مصنوعہ اشیاء کو خصوصی لیبل دینے پر غور کررہے ہیں لیکن اس نے سنہ 2013ء میں اس ایشو پر حتمی فیصلہ ملتوی کردیا تھا تاکہ امریکا کی جانب سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششوں کو نقصان نہ پہنچے۔

یورپی یونین کے اٹھائیس میں سے سولہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایسے وقت میں تنظیم کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کو خط لکھا ہے جب یورپی حکومتیں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیاں کی تعمیر جاری رکھنے کے معاملے پر نالاں ہیں۔انھوں نے صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے گذشتہ ماہ عام انتخابات سے قبل بیانات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا جن میں انھوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی ویب سائٹ پر یہ خط شائع کیا ہے۔اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ''اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع جاری رکھنے سے حتمی امن معاہدے کے امکانات مخدوش ہوگئے ہیں''۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ''یورپی یونین کے صارف تحفظ ضوابط کے نفاذ اور تنظیم کی جانب سے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو غلط معلومات کے ذریعے گمراہ نہ کیا جاسکے''۔فیڈریکا مغرینی نے نیدرلینڈز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ خط ملنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے اس پر دستخط کرنے والے وزراء سے پہلے ہی اس مسئلے پر بات کر لی ہے۔

اس خط پر دستخط کرنے والوں میں برطانیہ ،فرانس ،اٹلی ،نیدرلینڈز ،بیلجئیم اور سویڈن کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔تاہم اس پر جرمنی نے دستخط نہیں کیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک میں اسرائیل سے متعلق یورپی یونین کی پالیسی پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔