.

مصر: اخوان کے 22 کارکنان کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے بائیس کارکنان کو دارالحکومت قاہرہ کے ایک نواحی علاقے میں سنہ 2013ء میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کے جرم میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق اس مقدمے میں ایک کم سن لڑکے کو بھی مجرم قراردیا گیا ہے اور عدالت نے اس کو سزائے موت کے بجائے دس سال قید کا حکم دیا ہے۔مدعا علیہان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

استغاثہ کے مطابق مدعاعلیہان نے قاہرہ کے علاقہ کرادسہ میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا جس کے دوران ایک اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔ان پر قتل ،اقدام قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

قاہرہ کی جس عدالت نے کالعدم اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف سزائے موت کا حکم سنایا ہے،اس کے سربراہ بھی جج محمد ناجی شہاتہ ہیں۔ان جج صاحب نے اخوان اور دوسری جماعتوں کے ہزاروں کارکنان کو تھوک کے حساب سے موت اور قید وبند کی سزائیں سنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد فوج کی نگرانی میں قائم حکومت کے کریک ڈاؤن میں بیس ہزار سے زیادہ سیاسی ومذہبی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں اخوان المسلمون کی کم وبیش تمام ادنیٰ و اعلیٰ قیادت شامل ہے۔

اب ان تمام مدعاعلیہان کے خلاف اجتماعی مقدمے چلائے جارہے ہیں اورہزاروں کو موت اور طویل مدت کی قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ایک مقدمے میں پانچ سو سے زیادہ اخوانیوں کو صرف دو روز کے ٹرائل کے بعد جج نے سزائے موت سنا دی تھی۔مصری عدالتوں کے فیصلوں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے کڑی تنقید کی ہے اور ان کو انصاف کے خون کے مترادف قراردیا ہے۔