لبنان: سابق وزیر کا عسکریت پسندی میں ملوث ہونے کا اعتراف

’سماحہ نے لبنان میں دھماکوں کے لیے شام سے بھاری رقم وصول کی تھی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کے زیرِحراست ایک سابق وزیر میشل سماحہ نے مبینہ طور پر ایک فوجی عدالت کے روبرو بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے شامی حکومت کے کہنے پر لبنان کی سرکردہ سیاسی شخصیات اور بشارالاسد مخالف کارکنوں کو قتل کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد اور بھاری رقوم لبنان منتقل کی تھیں۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اگست 2012ء سے زیرحراست سابق لبنانی وزیر نے عدالت میں اپنے اقبالی بیان میں اعتراف کیا کہ ’’شام کے نیشنل سیکیورٹی سسٹم کے انچارج جنرل علی مملوک نے اپنے سیکرٹری عدنان کے دفتر سے مجھے ایک لاکھ 70 ہزار ڈالر کی رقم ایک بریف کیس میں دی جسے میں نے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ اپنی کار میں رکھا۔ یہ رقم اور بارودی مواد بیروت پہنچایا۔ جہاں اسے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے اشرفیہ کے مقام پر میلاد کفوری نامی شخص کے حوالے کیا جس نے وہ رقم اور بارود مختلف کارروائیوں میں استعمال کرنا تھا۔

میلاد کفوری نامی شخص میشل سماحہ کا ایک دوست تھا جس کے شامی فوج کے ساتھ بھی گہرے مراسم تھے تاہم پکڑے جانے کے ڈر سے بعد ازاں ملک چھوڑ گیا تھا۔

دو سال قبل 20 فروری 2013ء کو لبنان کی ایک عدالت نے مملوک اور میشل سماحہ دونوں کو ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے الزام میں پھانسی کی سزاسنائی تھی۔ سماحہ کو تو ملک میں موجود ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا تاہم جنرل مملوک کو اس کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی ہے۔

زیر حراست سابق وزیر نے دو سال اور نو ماہ کے بعد پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ شام سے دھماکہ خیز مواد لبنان منتقل کرنے کا مقصد ان لوگوں کو خاص طورپر نشانہ بنانا تھا کہ جو شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کی حمایت کررہے ہیں۔ اس کےعلاوہ دھماکہ خیز مواد کے ذریعے شام سے جنگجوئوں کی لبنان منتقل کا عمل روکنا تھا۔

میشل سماحہ نے بتایا کہ اس نے یہ سب کچھ رضاکارانہ طور پر نہیں کیا بلکہ اسے دبائو کے ذریعے کرایا گیا۔ اور میلاد کفوری نامی ایک ایجنٹ کے ساتھ اس کا تعلق قائم کرایا گیا تھا جس کے شامی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلقات تھے۔

میشل سماحہ کا کہنا تھا کہ مجھ سے غلطی ہوئی کیونکہ ایک ایسا کام کربیٹھا جوکہ میری مرضی کے خلاف تھا میں اپنے ملک میں فرقہ وارانہ لڑائی نہیں چاہتا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمہ 13 مئی تک ملتوی کردیا۔

خیال رہے کہ سابق لبنانی وزیر میشل سماحہ شامی صدر بشارالاسد کے بھی خصوصی مشیر رہ چکے ہیں۔ سولہ نومبر سے جنرل مملوک کے خلاف بھی مقدمہ کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں