لبنان کی فوجی جیل میں ہفتے میں دوسری بار بغاوت

قیدیوں نے ڈاکٹروں سمیت 12 فوجی اہلکار یرغمال بنالیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مشرق میں واقع رومیہ جیل میں قیدیوں نے ایک بار پھر بغاوت کرتے ہوئے ایک درجن فوجیوں اور طبی عملے کے متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تاہم فوج کی بروقت کارروائی سے بغاوت کو فرو کردیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رومیہ جیل میں اسلام پسند قیدیویوں کو رکھا گیا ہے جنہوں نے چند ہی روز قبل جیل میں بغاوت کرتے ہوئے متعدد سیکیورٹی اہلکاروں اور جیل عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

لبنانی سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز رومیہ جیل میں ایک بار پھر قیدیوں نے بغاوت کردی اور 12 سیکیورٹی اہلکاروں، دو ڈاکٹروں اور دونرسوں کو یرغمال بنا لیا۔ تاہم فوج کی کارروائی میں تمام یرغمال کوچھڑا لیا گیا ہے اور بغاوت کچل دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چار ماہ قبل رومیہ جیل میں زیرحراست اسلامی شدت پسندوں نے جیل میں ’’امارت اسلامیہ‘‘ قائم کرتے ہوئے جیل عملے کےخلاف بغاوت کی تھی۔ اس موقع پرقیدیوں نے استعمال کے کپڑوں، چٹائیوں اور دیگر سامان کو آگ لگا دی تھی اور جیل کے’’ڈی‘‘ بلاک کی عمارت پرقبضہ کرلیا تھا۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے شورش پھیلانے والے قیدیوں کو جیل کے بلاک B میں منتقل کردیا تھا۔

گذشتہ روز بھی بلاک D میں قیدیوں نے بغاوت کی۔ رومیہ جیل میں بغاوت کے بعد میجر جنرل ابراہیم بصبوص کی قیادت میں آپریشن کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کاکہنا ہے کہ قیدیوں کے خلاف کیے گئے آپریشن میں دو سیکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں جب کہ تمام قیدیوں کو ان کی بیرکوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رومیہ جیل میں زیادہ سے زیادہ 400 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت جیل میں 1100 قیدی رکھے گئے ہیں۔ لبنانی وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ جیل کی ایک عمارت زیرتعمیر ہے اور اگلے پندہ ایام میں ’’بلاک ڈی‘‘ میں رکھے گئے بیشتر قیدیوں کو نئی عمارت میں منتقل کردیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں