.

ڈاکٹر محمد مرسی کو 20 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو اپنے دور اقتدار میں مظاہرین کی گرفتاریوں اور ان پر تشدد کے الزام میں قصور وار قرار دے کر بیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے منگل کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں برطرف صدر کو سنہ 2012ء میں صدارتی محل کے باہر ایک صحافی اور دو مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں بری کردیا ہے۔اگرڈاکٹر مرسی کو قتل کے مقدمے میں قصوروار قرار دیا جاتا تو پھر انھیں سزائے موت سنائی جاسکتی تھی۔

عدالت کے اس فیصلے سے قبل اخوان المسلمون کے کارکنان نے ڈاکٹر محمد مرسی کے حق میں مظاہرے کیے ہیں اور صدر عبدالفتاح السیسی کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔اخوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''باغی کمانڈر عدلیہ کو انقلابی قانونی حکمران صدر محمد مرسی کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں''۔

ڈاکٹر محمد مرسی اور چودہ دیگر مدعا علیہان پر 5 دسمبر 2012ء کوقاہرہ میں صدارتی محل کے باہر تین مظاہرین کی ہلاکتوں اور متعدد مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ان میں سات مدعا علیہان مفرور ہیں۔وکلائے صفائی کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ ڈاکٹر مرسی نے مظاہرین پر تشدد کی شہ دی تھی۔عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

ان کے خلاف دو اور مقدمات بھی چلائے جارہے ہیں۔ان میں سے ایک میں ان کے خلاف دوسرے ممالک کے لیے جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ان دونوں مقدمات کے 16 مئی کو فیصلے سنائے جائیں گے اور ان میں برطرف صدر کو ممکنہ طور پر سزائے موت کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل (موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013ء کو مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ان کی برطرفی کے بعد فوج کی نگرانی میں قائم حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں بیس ہزار سے زیادہ سیاسی ومذہبی کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں اخوان المسلمون کی تمام ادنیٰ و اعلیٰ قیادت شامل ہے۔

اب ان تمام مدعاعلیہان کے خلاف اجتماعی مقدمے چلائے جارہے ہیں اورہزاروں کو موت اور طویل مدت کی قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ایک مقدمے میں پانچ سو سے زیادہ اخوانیوں کو صرف دو روز کے ٹرائل کے بعد جج نے سزائے موت سنا دی تھی۔مصری عدالتوں کے فیصلوں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے کڑی تنقید کی ہے اور ان کو انصاف کے خون کے مترادف قراردیا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مصر میں جس طرح سیاسی کارکنان کو موت اور قید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں،اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔