.

داعشی ’خلیفہ‘ زخمی، تنظیمی قیادت بحران کا شکار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار "گارجین" نے دعویٰ کیا ہے کہ شام اور عراق میں سرگرم انتہا پسند تنظیم دولت اسلامیہ "داعش" کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی ایک ماہ قبل ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد اب تنظیمی قیادت سے دور ہو چکے ہیں۔ البغدادی کے زخمی ہونے کے بعد داعش کی قیادت ایک نئی کشمکش کا شکارہے اورانہوں نے تنظیم کے متبادل سربراہ کے انتخاب پر بھی غور شروع کردیا ہے۔

گارجین کی رپورٹ میں ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ابو بکر البغدادی 18 مارچ کو ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ انہیں گہرے زخم آئے ہیں اور وہ کلی طور پر تنظیمی معاملات سے الگ ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ البغدادی شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت خطرے میں ہے۔ انہیں زخمی ہوئے ایک ماہ ہوچکا ہے۔ اس دوران انہوں نے خود کو بہتر کرنے کی کوشش کی مگر وہ روز مرہ کی بنیاد پر تنظیمی امور کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق بغداد کے زخمی ہونے کے بعد داعش کی صف اول کی قیادت نے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ انہیں بغدادی کے زندہ بچ جانے کا یقین نہیں تھا اور وہ نئے تنظیمی سربراہ کے نام پر بھی غور کررہے تھے۔

گارجین کی رپورٹ کےمطابق داعشی خلیفہ کے زخمی ہونے کے دو الگ الگ ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے۔ عراقی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابو بکر البغدادی 18 مارچ کو نینویٰ کے قریب شام کی سرحد پر البعاج کے مقام پر ایک فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ پچھلے سال نومبر میں بھی داعشی خلیفہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات آئی تھین تاہم ان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

البغدادی کے قافلے پر حملہ

ایک یورپی سفارت کار نے بتایا کہ داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کے قافلے کو شام اور عراق کی سرحد پر ام الروس اور الکرعان قصبوں کے درمیان اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ان تین میں سے ایک گاڑی میں سوار تھے۔ فضائی حملے میں داعش کے تین جگجو ہلاک ہوئے۔ اس وقت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ آیا اس قافلے میں البغدادی بھی موجود ہے۔

عراقی حکومت کے مشیر ھشام الھاشمی نے گارجین کو بتایا کہ البغدادی البعاج کے مقام پر زخمی ہوئے ہیں۔ یہ جگہ امر الروس قصبے سے کچھ فاصلے پرواقع ہے۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ البغدادی اپنا زیادہ وقت البعاج ہی میں گذارتے رہے ہیں۔ عراق میں داعش کے گڑھ سمجھے جانے والے موصل شہر سے یہ جگہ 200 کلو میٹر دور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ البغدادی نے اپنے قیام کے لیے البعاج کا انتخاب اس لیے کیا تھا کیونکہ انہیں کسی نے بتایا تھا کہ سنہ 2003ء میں عراق پرحملے کے بعد امریکا اس جگہ کے بارے میں زیادہ واقفیت حاصل نہیں کرسکا ہے اور نہ یہ جگہ ذرائع ابلاغ میں آئی ہے۔

چھوٹی چھوٹی تنگ وادیوں اورپہاڑوں میں گھرا یہ علاقہ شام اور عراق کے درمیان اسمگلنگ کا راستہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ سنہ 2004ء میں یہ جگہ عراقی حکومت کے کنٹرول سے نکل گئی تھی اور وہاں کے مقامی قبائل نے اپنی حکومت قائم کرلی تھی۔

البغدادی پر قاتلانہ حملے

داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی پرقاتلانہ حملوں کی یہ پہلی خبر نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی انہیں فضائی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی خبریں آتی رہی ہیں۔ پچھلے سال دسمبر میں بھی امریکی افواج نے موصل کے قریب دو کاروں پر مشتمل ایک قافلے کو نشانہ بنایا تھا جس میں البغدادی کے ایک خصوصی معاون عوف عبدالرحمان العفری ہلاک ہوگئے تھے۔ بتایا گیا تھا کہ البغدادی خود ہی ایک دوسری گاڑی چلا رہے تھے۔ وہ اس حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔

حالیہ چندماہ کے دوران امریکا کی قیادت میں ’’داعش‘‘ کے خلاف جاری آپریشن میں تنظیمی قیادت پرکئی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں البٖغدادی کے نائب ابو مسلم الترکمانی سمیت متعدد کمانڈر ہلاک ہوگئے تھے۔